BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 May, 2007, 13:02 GMT 18:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی امن کانفرنس بلانے کا اعلان

قبائلی جرگہ(فائل فوٹو)
قبائلی امن کانفرنس بلانے کے لیے ایک بارہ رکنی ورکنگ کمیٹی بنائی گئی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے اراکینِ پارلیمنٹ اور قبائلی عمائدین نے ایک جرگے میں فیصلہ کیا ہے کہ علاقے سے مبینہ دہشت گردوں کو نکالنے اور مجموعی صورتحال پر غور کرنے کے لیے بہت جلد ایک قبائلی امن کانفرنس بلائی جائے گی۔

قبائلی علاقے سے منتخب سینیٹر حمیداللہ جان نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائلی امن کانفرنس میں علاقے کو درپیش امن و امان کی ابتر صورتحال کے علاوہ علاقے کی ترقی کے نام پر فراہم ہونے والی اربوں روپوں کی رقم کے درست استعمال اور اس میں قبائلی عوام کی رائے اور شرکت کو یقینی بنانے پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقے میں سیاسی مداخلت کو روکنا، قبائلی تنازعات کا خاتمہ، ایف سی آر میں ترامیم، قبائلی جرگے کو بااختیار بنانا اور علاقے میں سماجی تنظیموں کے کردار کو مضبوط بنانا بھی کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل ہوگا۔

 صوبہ سرحد کے ضلع سوات، چارسدہ، بنوں، ٹانک اور مردان میں خودکش حملوں، سی ڈیز کی دکانوں اور لڑکیوں کے سکولوں میں بم دھماکوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ قبائلی علاقے جنوبی و شمالی وزیرستان اور تحصیل باڑہ میں امن و امان کی خراب صورتحال کے علاوہ باقی ایجنسیوں میں صورتحال مجموعی طور پر بہتر ہے
سینیٹر حمیداللہ جان

سینیٹر حمیداللہ جان کا کہنا تھا کہ اس وقت قبائلی علاقوں کی ترقی کے نام پر باہر سے اربوں روپے پاکستان آرہے ہیں لیکن خود قبائلیوں کو اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قبائلی علاقوں کا صوبہ سرحد میں مبینہ طور پر دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جنوبی و شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے علاوہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال نسبتاً اچھی ہے۔

ان کے مطابق’صوبہ سرحد کے ضلع سوات، چارسدہ، بنوں، ٹانک اور مردان میں خودکش حملوں، سی ڈیز کی دکانوں اور لڑکیوں کے سکولوں میں بم دھماکوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ قبائلی علاقے جنوبی و شمالی وزیرستان اور تحصیل باڑہ میں امن و امان کی خراب صورتحال کے علاوہ باقی ایجنسیوں میں صورتحال مجموعی طور پر بہتر ہے‘۔

حمید اللہ جان کا کہنا تھا کہ قبائلی امن کانفرنس بلانے کے لیے ایک بارہ رکنی ورکنگ کمیٹی بھی بنائی گئی ہے اور رواں ماہ کے بارہ تاریخ کو اس سلسلے میں ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

سنیچر کے اجلاس میں تمام قبائلی علاقوں اور نیم قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے سات اراکین پارلیمنٹ، قبائلی عمائدین، وکلاء،ایجنسی کونسلروں، سماجی کارکنوں اور فاٹا چیمبر کے نمائندوں نے شرکت کی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ خود قبائل علاقے کی مجموعی صورتحال پر غور کرنے اور متفقہ لائحہ عمل ترتیب دینے کےلیے ایک امن کانفرنس بلانے کا فیصلہ کررہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد