BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 April, 2007, 10:14 GMT 15:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم ایجنسی میں حالات معمول پر

(فائل فوٹو)
کرم ایجنسی میں ہونے والی جھڑپوں میں 164 افراد زخمی ہوئے تھے (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں دو ہفتے قبل ہونے والے فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد حالات آہستہ آہستہ معمول پر آنے شروع ہوگئے ہیں۔

تاہم مرکزی ٹل پارہ چنار شاہراہ اور تعلیمی ادارے بدستور بند ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو شدیدمشکلات کا سامنا ہے جبکہ پارہ چنار شہر میں کرفیو بھی نافذ ہے۔

دوسری طرف حکام نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ لڑائی کے نتیجے میں علاقے میں پہلے سے موجود امن معاہدوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے جس پر فریقین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

چھ اپریل کو شروع ہونے والے یہ فسادات صدر مقام پارہ چنار میں ایک مذہبی جلوس کے مسئلے پر پیدا ہوئے جو ایک دن کے وقفے کے بعد ایجنسی کے تقریباً تمام تر علاقوں تک پھیل گئے تھے۔

ان جھڑپوں میں فریقین کی جانب سے بھاری اسلحہ مارٹر گن، میزائل اور راکٹ لانچر کا دونوں طرف سے آزادانہ استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں حکام کے مطابق 63 افراد ہلاک اور 164 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو فوجی، ایک ایف سی اور لیوی اہلکار سمیت چار افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے تھے۔

News image
 فرقہ وارانہ جھڑپوں میں فریقین کی جانب سے مارٹر گن، میزائل اور راکٹ لانچر کا آزادانہ استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں حکام کے مطابق 63 افراد ہلاک ہوئے

ان جھڑپوں کو روکنے کے لیے گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کی جانب سے ہنگو اور اور کزئی ایجنسی کے شعیہ اور سنی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ تشکیل دیا گیا جس نے کرم ایجنسی آ کر دو روزہ کوششوں کے بعد فریقین کے مابین عارضی جنگ بندی کرائی۔ جرگہ کی جانب سے مستقل اور تحریری جنگ بندی کےلیے کوششیں جاری رہیں اور اس دوران ایجنسی کے تمام علاقوں میں جھڑپیں بھی بند ہو گئیں۔

صدر مقام پارہ چنار میں جمعرات کوبی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرم ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ صاحبزادہ انیس محمد نے بتایا کہ گورنر کی جانب سے تشکیل کردہ اس امن جرگہ نے فریقین کے درمیان عارضی جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا تاہم ان کا کام ختم ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا:’حکومت دونوں فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اب علاقے میں پائیدار اور مستقل امن کے لیے مقامی مشران (عمائدین) پر مشتمل امن جرگہ تشکیل دیاجائے گا جو معاملات خود طے کریں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگلا امن معاہدہ علاقے میں پہلے سے موجود معاہدوں کی روشنی میں طے کرلیا جائے گا۔

پولیٹکل ایجنٹ نے خبردار کیا کہ جس فریق نے علاقے میں پہلے سے موجود معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے ان کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی جس میں گرفتاریاں بھی ہوں گی اور جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔

اس سے پہلے ہونے والے تین امن معاہدوں میں ’معاہدہ کوہاٹ‘ سب سے زیادہ موثر رہا جو فریقین کے درمیان 1996 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ کرم ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر جاوید حسین کے مطابق اس معاہدے کے خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ مقرر طے کیا گیا تھا۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ گزشتہ دوہفتوں سے بجلی بھی بند ہے

ہفتے بھر شدید لڑائی کے بعد علاقے میں دو روز قبل شروع ہونے والے میٹرک کے امتحانات بھی ملتوی کردیے گئے ہیں جبکہ پارہ چنار اور اطراف میں تمام تعلیمی ادارے بھی کئی روز سے بند ہیں۔ پارہ چنار شہر میں جمعرات کو تیرہویں روز بھی کرفیو بدستور نافذ رہا اور اس دوران انتظامیہ کی جانب سے کرفیومیں صبح نو بجے سے لیکر چار بجے تک نرمی دی گئی۔ نرمی کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے اشیاء خوردونوش کی خریداری کی۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ گزشتہ دوہفتوں سے بجلی بھی بند ہے جس کی وجہ سے عوام کئی قسم کے مسائل کا شکار ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ روز ٹل آرمی قلعے سے ایک فوجی قافلے کے ساتھ پارہ چنار روانہ ہوا تو ٹل شہر سے باہر نکلتے ہی سڑک پر ہر طرف سناٹا دیکھائی دیا۔ ٹل پارہ چنار سٹرک بند ہونے کی وجہ سے مختلف جگہوں پر گاڑیاں گھروں کے سامنے کھڑی نظر آئی۔ کرم ایجنسی کی حدود میں داخل ہوئے تو چھپری چیک پوسٹ پر بھاری گاڑیوں کی ایک لمبی قطار نظر آئی جس میں ایک درجن سے زائد ٹرک سامان سے لدے فوجی قافلے کے انتظار میں تھے۔

مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو چاہیے کہ علاقے میں جاری کشیدگی کوفوری طور پر کم کرنے کے لیے ٹل پارہ چنار شاہراہ پر آمدو رفت بحال کر دی جانی چاہیے۔

کرم میں فرقہ واریت
پارہ چنار کے علاقے میں تصادم کیسے شروع ہوا؟
زخمیوں کے بیانات
’کرم ایجنسی میں بڑے پیمانے پر لڑائی‘
کرم ایجنسی
کرم ایجنسی کے فسادات کی تصاویر
’ ہم مر جائیں گے‘
پارا چنار میں کرفیو سے راشن و ادویات کی کمی
فسادات جاری ہیں
کرم ایجنسی فسادات میں درجنوں ہلاک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد