ٹانک میں کرفیو، حالات پرامن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ٹانک میں لوگوں کا کہنا ہے کہ کرفیو کے نفاذ کے بعد رات پرامن طریقے سےگزری ہے اور جمعرات کی صبح کسی تازہ ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے شہر کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے اور فوج شہر میں گشت کر رہی ہے۔ خیال ہے کہ مقامی عمائدین پر مشتمل جرگہ جو کل جنوبی وزیرستان میں محسود جنگجوؤں کے سربراہ بیت اللہ سے ملاقات کے بعد واپس لوٹا تھا آج مقامی انتظامیہ سے قیام امن پر غور کے لیے ملاقات کرے گا۔ تاہم ابھی تک ٹانک کی ایک سکول کے اغواء شدہ پرنسپل فرید محسود اور ان کے بھائی کی کوئی خیر خبر نہیں ہے۔ اس کے بارے میں مختلف افواہیں بھی گردش میں ہیں تاہم درست صورتحال واضح نہیں۔ ٹانک میں حالیہ کشیدگی کی وجہ اس سکول میں مقامی شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان ایک جھڑپ تھی جس میں عسکریت پسندوں کے سربراہ احسان برقی اور ایک انسپکٹر مارے گئے تھے۔ کل رات گئے اپنے آپ کو مقامی طالب ظاہر کرنے والے ایک شخص نے ٹیلیفون پر اس سرکاری دعوے کی تردید کی تھی جس میں ان کے بیس سے پچیس ساتھی مارے جانے کی بات ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ ٹانک کے مقامی رہائشی توقع کر رہے ہیں کہ مقامی شدت پسندوں نے ان کے ساتھی کی ہلاکت پر جو غصے کا اظہار کرنا تھا کر دیا اور اب حالات شاید معمول پر آجائیں۔ تاہم حکومت کے ناقدین کا پوچھنا ہے کہ اتنے بڑے جانی و مالی نقصانات کے بعد آیا اس کے ذمہ دار افراد کو اس کی سزا مل پائے گی یا اس بابت ماضی کی روایت برقرار رہے گی۔ |
اسی بارے میں ٹانک میں گڑ بڑ، انسپکٹر ہلاک26 March, 2007 | پاکستان ٹانک: جھڑپیں، کرفیو، فوج طلب28 March, 2007 | پاکستان جرگہ بیت اللہ محسود سے ملے گا27 March, 2007 | پاکستان ٹانک میں ایک قبائلی سردار قتل21 February, 2007 | پاکستان مبینہ ’امریکی جاسوس‘ کا سر قلم28 February, 2007 | پاکستان ٹانک: دکانیں حملے کی زد میں09 February, 2007 | پاکستان ٹانک: تین پولیس اہلکار اغواء24 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||