BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 May, 2007, 18:12 GMT 23:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم ایجنسی میں شیعہ سنی معاہدہ

کرم ایجنسی
علاقے میں تقریباًً ایک ماہ سے بند تمام سڑکیں کھول دی جائیں گی
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ شعیہ اور سنی فریقوں کے مابین تحریری امن معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے مطابق کل سے علاقے میں تقریباًً ایک ماہ سے بند تمام سڑکیں کھول دی جائیں گی جبکہ پارہ چنار شہر سے کرفیو بھی اٹھا لیا جائےگا ۔

پولیٹکل ایجنٹ کرم ایجنسی صاحبزادہ انیس محمد نے بدھ کو پارہ چنار میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فریقین کےمابین امن معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے مطابق کل سے ایجنسی کے حدود میں تمام سٹرکیں عام ٹریفک کےلئے کھول دی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پارہ چنار شہر میں تقریباًً ایک ماہ سے نافذ کرفیو بھی کل سے اٹھالیا جائے گا جبکہ تمام تعلیمی ادارے بھی پیر کو کھول دیے جائیں گے۔

اس سے قبل پولیٹکل ایجنٹ کرم ایجنسی کے دفتر سے اعلان امن کے نام سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق 28 اپریل کو شیعہ اور سنی فریقوں کے نمائندہ افراد پر مشتمل ایک جرگہ کرم ملیشا پوسٹ ( صدہ ) میں منعقد ہوا جس میں دونوں فریقوں نے اپنی جانب سے عوامی نمائندوں کو واک یا اختیار دیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آمد ورفت کے تمام راستوں اور سڑکوں پر امن ہوگا جبکہ کاروبار زندگی مکمل امن کی فضا میں بحال رہے گی۔

بیان کے مطابق کسی بھی فرد یا افراد کی طرف سے کوئی بدامنی کا واقعہ ہوا تو قوم ایسے افراد کی حمایت نہیں کریگی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق حالیہ واقعات کے محرکات و اسباب معلوم کرنے، ذمہ دار افراد کی نشاندہی، اور تمام تصفیہ طلب امور جرگے میں بذریعہ گفت و شنید حل کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

بیان پر کرم ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ کے علاوہ ایجنسی کے موجودہ اور سابق اراکین پارلمینٹ حاجی منیر خان اورکزئی ایم این اے، سینیٹر انجنئیر رشید ، ڈاکٹر سید جاوید حسین ایم این اے اور سابق سینیٹر سید جاوید حسین میاں کے دستخط موجود ہیں۔

واضح رہے کہ چھ اپریل کو کرم ایجنسی میں مذہبی جلوس کے مسئلے پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پھوٹ پڑے تھے جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 84 ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ آزاد اور مقامی ذرائع ہلاک شدگان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بتا رہے ہیں۔

ان جھڑپوں کے باعث مرکزی ٹل پارہ چنار شاہراہ اور تمام تعلیمی ادارے تقربیاً گزشتہ ایک ماہ سے بند ہیں ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد