BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 April, 2007, 03:11 GMT 08:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارہ چنار: آتشزدہ املاک،خوفزدہ لوگ

پارہ چنار
80 کے قریب دوکانیں جھڑپوں کے دوران جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکی ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں گزشتہ پندرہ دنوں سے مرکزی ٹل پارہ چنار شاہراہ عام ٹریفک کے لیے بند ہے جبکہ علاقے کے حالات کو دیکھ کر مستقبل قریب میں اس کے کھلنے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔

اس شاہراہ کے مسلسل بندش سے جہاں مقامی لوگوں کے مسائل میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف علاقے میں اشیائے خورد و نوش کے سٹاک بھی تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔

ٹل شہر کی گہماگہمی سے نکلتے ہی پاراچنار سڑک کا آغاز ہوتا ہے جس میں داخل ہوتے ہی اچانک ایک سناٹا سا چھا جاتا ہے۔ ایک طرف تو لڑائی کی وجہ سے علاقے میں خوف و ہراس پہلے سے برقرار ہے دوسری طرف سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت نہ ہونے کی وجہ سے مزید خوف کا احساس ہوتا ہے۔

 پارہ چنار شہر میں چوبیس گھنٹے سے زیادہ لڑائی نہیں ہوئی کیونکہ فوج کی بروقت کارروائی سے حالات کنٹرول ہوگئے تھے لیکن شہر میں ہونے والے نقصانات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسا یہاں پر بڑی جنگ لڑی گئی ہے۔

ٹل سے پارہ چنار تک تقریباً نوے کلومیٹر کے اس فاصلے پر ہر چند کلومیٹر پر فوج اور کرم ملیشیاء کی حفاظتی چوکیاں قائم ہیں۔ بگن ، علی زئی، مندوری اور صدہ کے علاقوں میں بازار کھلے ہوئے تھے اور لوگ معمول کے مطابق کام کرتے ہوئے دکھائی دیے۔تاہم ان علاقوں میں فوجی دستے تعینات ہیں۔ کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار کے قریب پہنچے تو ہر طرف فوج کے جوان ہاتھوں میں ’جی تھری‘ بندوقیں تھامے چاق و چوبند دکھائی دیے۔

تقریباً پینتس ہزار نفوس پر مشتمل پارہ چنار شہر میں چوبیس گھنٹے سے زیادہ لڑائی نہیں ہوئی کیونکہ فوج کی بروقت کارروائی سے حالات کنٹرول ہوگئے تھے لیکن شہر میں ہونے والے نقصانات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسا یہاں پر بڑی جنگ لڑی گئی ہے۔

فوج کی بروقت کارروائی سے حالات کنٹرول ہوگئے

چار ہزار سے زائد دوکانوں پر مشتمل اس شہر میں 80 کے قریب دوکانیں جھڑپوں کے دوران جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ کچھ گھروں پر بھی مارٹر اور میزائل کے گولےگرے جس سے وہ تباہ ہوگئے ہیں۔ شہر میں واقع بنگش مارکیٹ مکمل طور پر جل گئی ہے جس میں مقامی لوگوں کے مطابق زیادہ تر کپڑے کی دوکانیں تھیں۔ بازار میں لوٹ مار کے واقعات بھی ہوئے ہیں جس میں دوکانداروں کے مطابق کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ شہر میں بعض جگہوں پر لوگوں نے تباہ ہونے والی دوکانوں کی دوبارہ تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔

کئی چھوٹی چھوٹی مارکیٹوں پر مشتمل پارہ چنار بازار میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیےگئے ہیں۔ بازار کے اندر ہر قسم کا اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی عائد ہے جبکہ خلاف ورزی پر گولی مارنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

شہر میں فوج کی جانب سے بڑی تعداد میں چیک پوسٹیں قائم کی گئیں ہیں جس میں ہر مشکوک شخص کی تلاشی لی جاتی ہے جبکہ بازار میں ہر طرف فوجی جوان بڑی تعداد میں دکھائی دیتے ہیں۔

لڑائی اور سڑکوں کی بندش کے باعث شہر میں کھانے پینے اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ فوجی قافلوں میں پشاور، کوہاٹ اور ٹل سے سامان ٹرکوں کے ذریعے سے پہنچ رہا ہے لیکن مقامی لوگوں کے مطابق وہ ناکافی ہے جبکہ علاقے میں پہلے سے موجود سٹاک تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

شہر میں فوج کی جانب سے بڑی تعداد میں چیک پوسٹیں قائم کی گئیں ہیں

پانچ لاکھ تیس ہزار آبادی پر مشتمل کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات گزشتہ چھیالیس سالوں میں پانچ دفعہ ہو چکے ہیں اور مقامی لوگ بھی ایسے واقعات کا بار بار تجربہ ہونے کی وجہ سے ہر حساس موقع مثلاً عید میلادالنبی اور عاشورۂ محرم آنے سے قبل ہی راشن اور دیگر چیزوں کا انتظام کر لیتے ہیں۔

پارہ چنار شہر میں شیعہ اور سنی مسلمان حالیہ لڑائی پر سخت رنجیدہ اور خفا ہیں۔ان کے مطابق یہ جھڑپیں شرپسند عناصر کی سازش ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ ان کی ایجنسی دیگر قبائلی علاقوں کے مقابلے میں ہر لحاظ سے پرامن علاقہ ہے۔ ان کے مطابق ’ یہاں نہ تو اغواء ہے ، چوری ڈاکہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی قتل کرسکتا ہے اور کرم ایجنسی میں شرح خواندگی بھی زیادہ ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد