لشکراسلامی کااہم مرکز تباہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرگرم مقامی شدت پسند تنظیم لشکر اسلامی کےایک اہم مرکز کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ہے ۔ پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ باڑہ سے آٹھ کلومیٹر دور کوہی شیر حیدر میں مبینہ طور پر قائم لشکر اسلامی کے مرکز پر بدھ کی رات نیم فوجی ملیشیاء نے قبضہ کر لیا تھا اور جمعرات کی دوپہر مرکز کو تین دھماکے کر کے تباہ کر دیا گیا۔ قبضہ کے وقت لشکر اسلامی کے مسلح افرادنے کوئی مزاحمت نہیں کی ۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہاں سے لشکر اسلامی کے مسلح افراد غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث تھے اور اپنے مخالفین کو گاڑیوں سے اتار کر اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ تاہم علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کوہی شیر حیدر میں تباہ کی گئی عمارت ایک کاروباری مرکز تھا جہاں 43 دکانیں تھیں اور لشکر اسلامی کا وہاں کوئی دفتر قائم نہیں تھا۔ اس علاقے کی ایجنسی کونسل کے ممبر اور تباہ ہونے والی مارکیٹ میں تین دوکانوں کے مالک صحبت خان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی تباہی سے انہیں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے ۔ ان کے مطابق ’ یہ ایک کاروباری مرکز تھا جو ہماری قوم نے انیس سوچورانوے میں مشترکہ طور پر بنایا تھا جبکہ مذہبی شدت پسند تنظیمیں لشکر اسلامی اور انصارالسلام کا نام تو ہم محض ایک سال سے سن رہے ہیں۔مارکیٹ کے تباہ ہونے سے ہمیں پانچ سے چھ کروڑ روپے تک کا نقصان پہنچا ہے‘۔ تاہم اس سلسلے میں حکام سے رابطے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکیں۔ واضح رہے باڑہ میں گزشتہ ایک سال سے دو مبینہ مقامی شدت پسند تنظیموں لشکر اسلامی اور انصارالسلام کے مسلح قبائلیوں کے درمیان روزانہ جھڑپیں ہوتی ہیں اور دونوں اپنے اپنے مخالفین کے گھروں کو نذر آتش کرتے ہیں۔
لشکراسلامی نے علاقے سے اغواء ، چوری ، بے حیائی اور غیر شرعی حرکات کے خاتمے کے لیے چودہ نکاتی پروگرام کا اعلان کیا تھا جس میں خواتین کے بازار میں اکیلے گھومنے پھرنے اور موسیقی سننے پر پاپندی بھی شامل تھی۔ لشکر اسلامی کا اثر ونفوذ تحصیل باڑہ کےآس پاس علاقوں میں زیادہ ہے جبکہ انصارالسلام کو جس پر حکومتی حمایت کا شک بھی ہے تیراہ کے علاقے پر کنٹرول حاصل ہے۔ لشکر اسلامی کے دو مراکز اس وقت حکومتی کنٹرول میں ہیں لیکن گوگرنہ، نرئی بنگ اور سیدک کے علاقوں میں قائم تنظیم کے دیگر تین مراکز اب بھی فعال ہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ لشکر اسلامی کے خلاف اب مزید کاروائی کی جائے گی۔علاقے کے لوگ حکومت پر الزام لگارہے ہیں کہ وہ یہاں امن وامان خراب کرکے مستقل فوجی چھاؤنی کے قیام کا جوازڈھونڈنے کی کوشش کررہی ہے۔ | اسی بارے میں کرم ایجسنی: تصادم کیوں شروع ہوا؟10 April, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں حالات معمول پر19 April, 2007 | پاکستان کرفیومیں نرمی، مذاکرات میں تاخیر15 April, 2007 | پاکستان پارا چنار:’ہم بھوکے مر جائیں گے‘10 April, 2007 | پاکستان ’لڑائی کی شدت ناقابلِ بیان ہے‘10 April, 2007 | پاکستان کرم ایجنسی میں عارضی جنگ بندی12 April, 2007 | پاکستان قبائلی تنازعات، دس اضلاع متاثر18 April, 2007 | پاکستان ’محبت نامے کی سزا دو لاکھ روپے‘19 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||