BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 January, 2008, 14:59 GMT 19:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محرم: سرحد میں سکیورٹی سخت

حکومت کو امن عامہ کی صورتحال پر تشویش ہے
صوبہ سرحد کی نگراں حکومت نے محرم کے دوران فرقہ ورانہ کشیدگی اور امن و عامہ کی غیر تسلی بخش صورتِحال کے پیشِ نظر پشاور سمیت چار اضلاع کو انتہائی حساس اور تین کو قدرے کم حساس قرار دیا ہے ۔

نگراں صوبائی وزیرِ اطلاعات امتیاز حُسین گیلانی نے جمعرات کو پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت نے ماضی کے واقعات اور عوام میں پائے جانے والے خدشات کے پیشِ نظر صوبہ بھر کے تمام اضلاع کو تین درجوں میں تقسیم کرکے محرم کے دوران امن برقرار رکھنے کے لیے حکمتِ عملی مرتب کی ہے ۔

اُنہوں نے کہا کہ انتہائی حساس قرار دیے جانے والے اضلاع میں پشاور ، ہنگو ، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں جبکہ دوسرے درجے کے انتہائی حساس اضلاع میں ہری پور ، ٹانک اور مانسہرہ شامل ہیں ۔ دیگر تمام ضلعوں میں صورتِحال تسلی بخش ہے ۔

 سندھ ، پنجاب اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایسے مقررین اور علماء کے صوبہ سرحد میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے جو اشتعال انگیز تقریریں کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں ۔ اسی طرح صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے بعض عناصر کی بین الصوبائی حرکت پر پابندی لگائی گئی ہے
حکومت صوبہ سرحد

انہوں نے کہا کہ محرم کے دوران افغان مہاجرین کی حرکت کو محدود کیا جائے گا اور محرم سے متعلقہ جلوسوں اور مجالس میں افغان مہاجرین کی شرکت کو روکا جائے گا ۔

حالات خراب ہونے پر کسی بھی علاقے میں فوج ، فرنٹیئر کور اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے دستے تعینات کیے جا سکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے شیعہ اور سُنی مسلک سے تعلق رکھنے والے اثر و رسوخ کے حامل علماء سے رابطے کیے ہیں تاکہ امن قائم رکھنے میں ان کے فعال کردار کو یقینی بنایا جائے ۔

’ سندھ ، پنجاب اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایسے مقررین اور علماء کے صوبہ سرحد میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے جو اشتعال انگیز تقریریں کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں ۔ اسی طرح صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے بعض عناصر کی بین الصوبائی حرکت پر پابندی لگائی گئی ہے ‘۔

انہوں نے بتایا کہ امن قائم رکھنے کےلیے واپڈا سے گزارش کی گئی ہے کہ صوبہ سرحد میں کم از کم محرم کے پہلے دس روز بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے ۔

پریس کانفرنس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صوبہ سرحد کے انسپیکٹر جنرل پولیس شریف ورک نے کہا ہے کہ ’ گو کہ اطلاعات نہیں لیکن پھر بھی خودکش حملوں کا خدشہ محرم میں موجود ہے ‘ ۔

گزشتہ سال محرم کے پہلے عشرے میں پشاور شہر میں ہونے والے خودکش حملے میں دس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں امن کمیٹیوں کے ارکان سمیت پشاور پولیس کے اعلیٰ افسران بھی شامل تھے ۔

اسی بارے میں
خاتون خودکش حملہ آور ہلاک
04 December, 2007 | پاکستان
نوشہرہ: خودکش حملہ، چھ ہلاک
15 December, 2007 | پاکستان
’دو سال میں 140 خودکش بمبار‘
09 January, 2008 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد