خاتون خودکش حملہ آور ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کی دوپہر پشاور چھاؤنی کے علاقے میں جس مبیینہ خودکش خاتون بمبار نے بم دھماکہ کیا اُس کے پاس ایک عدد موبائل فون بھی تھا۔ بابر روڈ پر قائم فوج کی جس چیک پوسٹ کے قریب بم دھماکہ ہوا گو کہ وہاں تعینات فوجی تو محفوظ رہے لیکن بم کی ساخت کے حوالے سے پولیس افسران کا کہنا ہے کہ موقع سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ جس عورت نے دھماکہ کیا وہ خود کش بمباروں کی جانب سے استعمال کی جانے والی جیکٹ نہیں پہنے ہوئی تھی۔ اُس عورت نے بائیں پہلو کی جانب جو بڑی سی پوٹلی اُٹھائی ہوئی تھی دھماکہ خیز مواد اُس ہی میں تھا ۔ پشاور چھاؤنی کے سپرنٹینڈینٹ پولیس اعجاز خان نے صحافیوں کو بتایا کہ اگرچہ مذید تحقیقات کے بعد ہی صورتِ حال واضح ہو سکے گی’ لیکن نہ تو جیکٹ کے نشانات ہیں اور نہ ہی جیکٹ بم میں استعمال ہونے والے چھروں کے آثار نظر آئے ہیں‘ بی بی سی کے رابطہ کرنے پر پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا کہ ’مشتبہ خاتون خودکش بمبار بُرقعہ اوڑھے ہوئے تھی اور جب اُسے چیک پوسٹ کی جانب بڑھنے کی بجائے رُکنے کا اشارہ کیا گیا تو اُس نے اپنے آپ کو اُڑا دیا‘۔ جس جگہ دھماکہ ہوا وہ فوجی دفاتر کے حوالے سے نہایت حساس نوعیت کا حامل ہے ۔ قریب ہی واقع ایک سڑک پر خفیہ تحقیقاتی ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے دفاتر ہیں جب کہ بابر روڈ کے دوسرے سرے کے قریب ہی پشاور کور ہیڈکوارٹر واقع ہے۔ گو کہ بابر روڈ سمیت اس حساس علاقے میں دیگر کئی سڑکوں پر فوج کی چیک پوسٹیں کافی عرصے سے قائم ہیں لیکن گذشتہ چند روز سے بابر روڈ کی شاہراہ کی جانب سے آنے والے راستے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔ اس حوالے سے جب میجر جنرل وحید ارشد سے پوچھا گیا کہ کیا اس علاقے میں حملے کا خطرہ پہلے سے محسوس کیا جارہا تھا تو اُنھوں نے کہا کہ سڑک بند کرنا معمول کی حفاظتی تدبیر تھی۔ | اسی بارے میں پشاور میں دھماکہ، اٹھارہ زخمی08 September, 2007 | پاکستان پشاور کے میوزک بازار میں دھماکہ09 October, 2007 | پاکستان سی ڈیز کے کھوکھوں پر دھماکہ03 November, 2007 | پاکستان ہنگو: فوجی چوکی پر حملہ، چار ہلاک20 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||