’دو سال میں 140 خودکش بمبار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نےگزشتہ دو برس کے دوران پاکستان سے ایک سو چالیس سے زیادہ خودکش حملہ آوروں کو بھرتی کرکے امریکی اور نیٹو فورسز پر حملہ کرانے کے لیےافغانستان بھیجا ہے۔ پاکستان حکومت نے طالبان کے اس دعوی کو خارج ازمکان قرار نہیں دیا ہے۔ افغانستان کے طالبان تحریک کے ایک اہم رہنماء نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران جن ایک سو چالیس سے زائد خودکش حملہ آوروں کو افغانستان بھیجا گیا ہے ان میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان کے قبائلی اور صوبہ سرحد کے دیہاتی علاقوں سے ہے۔ انکے دعویٰ کے مطابق ان خودکش حملہ آوروں میں چالیس سے زیادہ پنجابی بھی شامل ہیں جنکا تعلق مبینہ طور پر کالعدم جہادی تنظیموں سے ہےجبکہ باقی تمام حملہ آور پشتون ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان خودکش حملہ آوروں میں کوئی بھی بلوچ یا سندھی شامل نہیں ہے۔ طالبان رہنماء نے دعویٰ کیا کہ ان پاکستانی خودکش حملہ آوروں نے افغانستان میں برطانیہ، امریکہ اور نیٹو افواج پر کئی حملے کیے ہیں۔ تاہم طالبان کے ساتھ خودکش حملوں کے لیے درکار وسائل کی کمی اور جنگی حکمت عملی کے سبب بہت سے حملہ آور اب بھی اپنی باری کے منتظر ہیں۔
طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے نائب خطیب عبدالرشید غازی نے طالبان کمانڈر ملا داداللہ سے رابطہ کرکے دعویٰ کیا تھا کہ انکے پاس ایک سو پچاس سے زائد خواتین خودکش بمبار موجودہیں تاہم انکے بقول ملا دادللہ نے یہ کہہ کر انکی یہ پیشکش ٹھکرادی کہ اسلام کی رو، سے کوئی بھی عورت بغیر محرم کے گھر سے باہر نہیں نکل سکتی لہذا ان خواتین خودکش بمباروں کو استعمال میں نہیں لایا جاسکتا۔ طالبان کے اس دعویٰ کے سلسلے میں جب پاکستان کے نگران وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ممکن ہے پاکستان میں اس قسم کی سرگرمیاں ہوئی ہوں۔ انکے بقول’ طالبان کی جانب سے خودکش حملہ آوروں کی دی گئی اعداد شمار درست نہیں ہیں۔ ’باقی میں ان کے افغانستان جانے کے امکان کو رد نہیں کرتا کیونکہ سوویت یونین کیخلاف افغان مجاہدین کی تربیت گاہیں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجودتھیں جہاں پر انہیں اسلحہ بھی فراہم کیا جاتا تھا‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت خودکش حملہ آور کے بھرتی کرنے کا سدباب کرتی ہے اور انکے خفیہ ٹھکانوں کا پتہ لگانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے کیونکہ لال مسجد کی طرح ایسے مدارس موجود ہیں جہاں پر اس قسم کی سرگرمیاں ہوسکتی ہیں لیکن جب بھی ہمیں اطلاع ملتی ہےہمیں انہیں پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں‘۔ واضح رہے کہ ستمبر دو ہزار سات میں اقوام متحدہ نے ایک سروے رپورٹ میں کہا تھا کہ افغانستان میں حملے کرنے والے خودکش بمباروں میں نصف سے زیادہ افغان شہری نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق اسی فیصد سے زائد حملہ آوروں کی تقرری اور تربیت پاکستان میں ہوتی ہے اور وہیں انہیں پناہ حاصل ہے۔ گزشتہ سال کے اوائل میں بھی پاکستانی حکام کے مطابق صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے شمال میں واقع شب قدر سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں نے افغانستان میں خودکش حملے کیے تھے جبکہ ایک اور پاکستانی خودکش حملہ آور کوگرفتاری کے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔
افغانستان میں خودکش حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اب پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس سلسلے میں سن دوہزار سات پاکستان کے لیےخودکش حملوں کے حوالے سے بہت خطرناک ثابت ہوا ہے۔ اس ایک سال کے دوران پچاس سے زیادہ خودکش حملے ہوئے تھے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے سابق سیکریٹری سکیورٹی اور خطے کے تجزیہ نگار بریگیڈیئر(ر) محمود شاہ کا طالبان کے دعویٰ کے متعلق کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال میں پاکستان سے ایک سو چالیس سے زائد خودکش حملہ آوروں کو افغانستان بھیجنے کی تعداد اتنی حیران کن نہیں ہے۔ انکے بقول’ فروری سن دو ہزار چھ میں شمالی وزیرستان میں طالبان اور حکومت پاکستان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد جنوبی وزیرستان کے طالب کمانڈر بیت اللہ محسود کو جو ملا داداللہ کے زیر اثر رہے ہیں، موقع ملا کہ وہ خودکش حملہ آوروں کو بھرتی کریں اور انہوں نے بڑی تعداد میں اس قسم کی بھرتیاں کیں جن میں سےکئی کو پاکستان کے اندر استعمال کیا گیا جبکہ بعض کوافغانستان بھی ضرور بھیجا گیا ہوگا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر دیکھا جائے تو دو ہزار چھ میں طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے بعد پاکستان میں خودکش حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسری طرف اسی دوران افغانستان میں بھی نیٹو فورسز کیخلاف مزاحمت بڑھ گئی تھی۔ | اسی بارے میں مولانا فضل اللہ: ہلاکت کی تردید09 January, 2008 | پاکستان مولانا کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں: طالبان09 January, 2008 | پاکستان سوات: بدھا کا مجسمہ تباہ کرنے کی کوشش11 September, 2007 | پاکستان سوات: سی ڈی دکانوں پر دھماکہ07 September, 2007 | پاکستان سوات سیاحوں کو ترستا ہے 12 September, 2007 | پاکستان سوات دھماکہ: ایک ہلاک، چار زخمی20 September, 2007 | پاکستان سوات: چوکی پرحملہ، ایک ہلاک22 September, 2007 | پاکستان تاریخی ورثہ کو حملہ آوروں سےخطرہ02 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||