مولانا فضل اللہ: ہلاکت کی تردید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ مولانا کو سکیورٹی فورسز کے ایک حملے میں ہلاک کیا گیا ہے۔ بدھ کی شام کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے سوات میں عسکریت پسندوں کے سربراہ مولانا فضل اللہ نے بتایا کہ وہ بالکل صحیح سلامت ہیں اور سوات میں عسکریت پسندوں کی قیادت کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ہلاکت کی افواہیں حکومتی میڈیا پھیلا رہی ہے جس کا مقصد ان کے بقول سوات میں ’ مجاہدین‘ کے حوصلوں کو پست کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں کہ ان پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے حملہ کیا گیا ہے ۔ سوات میں دو دن سے یہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ مولانا فضل اللہ سکیورٹی فورسز کے ایک حملے میں کئے گئے ہیں۔ مولانا فضل اللہ کا مزید کہنا تھا کہ سوات میں شریعت کے نفاذ تک ان کی اور ان کے ساتھیوں کی کوششیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ سوات میں ایک ماہ قبل وہ اپنے ساتھیوں سمیت چار تحصیلوں کا کنڑول چھوڑ کر ایک حکمت عملی کے تحت زیر زمین چلے گئے تھے تاکہ ان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ میں عام لوگ نشانہ نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے عسکریت پسند کمانڈر بیت اللہ محسود کی قیادت میں مکمل طور پر متفق ہیں اور ان کی جنگ سوات میں شریعت کے نفاذ تک جاری رہی گی۔ واضح رہے کہ سوات میں تقریباً دو ماہ قبل عسکریت پسندوں کی طرف سے چار تحصیلوں میں شریعت کے اعلان کے بعد مولانا فضل اللہ زیر زمین چلے گئے تھے۔ | اسی بارے میں سوات: بدھا کا مجسمہ تباہ کرنے کی کوشش11 September, 2007 | پاکستان سوات: سی ڈی دکانوں پر دھماکہ07 September, 2007 | پاکستان سوات سیاحوں کو ترستا ہے 12 September, 2007 | پاکستان سوات دھماکہ: ایک ہلاک، چار زخمی20 September, 2007 | پاکستان سوات: چوکی پرحملہ، ایک ہلاک22 September, 2007 | پاکستان تاریخی ورثہ کو حملہ آوروں سےخطرہ02 October, 2007 | پاکستان فوجی قافلے پر حملہ، 20 ہلاک25 October, 2007 | پاکستان سوات: عینی شاہد ین نے کیا دیکھا25 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||