کراچی: ہلاکتوں کی تعداد گیارہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے صنعتی علاقے قائد آباد لانڈھی میں پیر کی شام بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔ جناح ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق رات گئے تک دس لاشیں لائی گئی تھیں اور منگل کو دھماکے کا ایک اور زخمی دوران علاج دم توڑ گیا جس کے بعد واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔ ہسپتال میں پچاس سے زائد زخمیوں کو داخل کیا گیا تھا جن میں سے چھ کی حالت اب بھی انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ دوسری طرف پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ اس دھماکے میں کم از کم نو افراد ہلاک اور تقریباً پچاس زخمی ہوگئے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سندھ کے وزیر داخلہ اختر ضامن نے نو افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جناح ہسپتال میں موجود ایدھی ویلفئر ٹرسٹ کے سینئر اہلکار فیصل ایدھی نے بتایا کہ وہاں آٹھ لاشیں لائی گئی ہیں۔ دھماکے کی زد میں آنے والے زیادہ تر پھل فروش اور مزدور ہیں۔ کئی زخمیوں کو قریبی سٹیل مِل ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ بم دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب صدر پرویز مشرف کراچی کے دورے پر آئے ہوئے ہیں اور اس بناء پر شہر میں حفاظتی انتظامات انتہائی سخت ہیں۔ جس مقام پر دھماکہ ہوا وہ صنعتی علاقے کا مصروف چوراہا ہے اور مختلف روٹس کی بسوں کا اسٹاپ بھی ہے۔ اس لیے وہاں ٹھیلے پر سبزیاں اور پھل فروخت کرنے والوں کے علاوہ عام لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ جس وقت دھماکہ ہوا،
جائے واردات کے معائنے کے بعد آئی جی پولیس( سندھ) اظہر فاروقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں کچھ ٹھیلے تباہ پڑے ہوئے تھے جس سے ابتدائی طور پر یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ بم کسی ٹھیلے میں نصب کیا گیا تھا لیکن معائنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ بم ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا جو وہاں کھڑی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد جائے واردات پر کوئی گڑھا نہیں پڑا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بم کا وزن کم تھا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے لیے اسی ساخت کا بارود استعمال ہوا ہے جو اس سے پہلے بھی شہر میں مختلف بم دھماکوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ عینی شاہد رحمان ملک نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں (اپنی) فیکٹری سے باہر نکل رہا تھا کہ زوردار دھماکہ ہوا۔ میں نے کئی لوگوں کو سڑک پر خون میں لت پت دیکھا۔ کم سے کم تیس لوگ دھماکے کی زد میں آئے‘۔
پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد علاقے میں فائرنگ بھی ہوئی۔ چودہ سالہ عطااللہ جو اپنے زخمی والد کو جائے حادثہ سے جناح ہسپتال لے کرآیا تھا،نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے اپنی آنکھوں سے زور دار دھماکہ دیکھا۔’میں اپنے والد کے ساتھ سبزی لینے گیا تھا کہ اچانک دھماکہ ہوگیا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ میں اس وقت دھماکے کے مقام سے محض کوئی آٹھ یا نو قدم دور تھا۔ میں نے دیکھا کہ کئی لوگوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑ گئے اور بہت سارے لوگ زخمی ہوگئے۔ بس ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔‘ عطااللہ نے بتایا کہ دھماکے کے بعد فوری طور پر وہاں دکانیں بند ہوگئیں،ٹریفک غائب ہوگئی جبکہ پولیس اور رینجرز وہاں پہنچ گئے۔ لوگوں کے جسموں کے ٹکڑے ایک گاڑی میں رکھ کر کسی ہسپتال لے جائے گئے۔
جناح ہسپتال کے باہر چیختی چنگھاڑتی ایمبولیسنیں زخمیوں اور لاشوں کو لے کر آرہی تھیں اور وہاں ایمرجنسی وارڈ کے باہر لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا تھا جو اس واقعہ کی مذمت کرتے نظر آ رہے تھے۔ ایمرجنسی وارڈ کے داخلی دروازے پر رینجرز اور پولیس کو تعینات کردیا گیا تھا۔ ایک موقع پر جب لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی اور ہجوم کی وجہ سے زخمیوں کو ایمبولینسوں سے وارڈ میں منتقل کرنے میں رکاوٹ ہونے لگی تو رینجرز نے لوگوں کو منتشر کرنے اور ایمرجنسی دروازے سے ہٹانے کے لئے لوگوں پر ہلکا پھلکا لاٹھی چارج بھی کیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماء، جن میں پاکستان مسلم لیگ (نواز)، جماعتِ اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، اور دیگر شامل ہیں، جناح ہسپتال پہنچے اور زخمیوں کی عیادت کی اور اس واقع کی پرزور الفاظ میں مذمت کی۔ | اسی بارے میں بارہ مئی کے بعد اٹھارہ اکتوبر 19 October, 2007 | پاکستان ’ آج نہ جاؤ، چھٹی کرلو۔۔۔‘11 January, 2008 | پاکستان لاہور بم دھماکہ، ہلاکتوں میں اضافہ11 January, 2008 | پاکستان کراچی: فائرنگ کے بعد کاروبار بند31 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||