BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 December, 2007, 10:26 GMT 15:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: فائرنگ کے بعد کاروبار بند

گزشتہ رات تک ہونے والی ہنگامہ آرائی میں چوالیس افراد ہلاک ہوئے
کراچی سمیت صوبہ سندھ کے بیشتر شہروں میں پیر کو کاروبار معمول پر آنے کے چند گھنٹوں بعد فائرنگ اور تاجروں کو دھمکیاں موصول ہونے کے بعد بیشتر دوکانیں اور بازار بند ہوگئے اور جزوی طور پر بحال ہونے والی ٹرانسپورٹ بھی غائب ہوگئی۔

کراچی میں لیاری، ٹاور، جامع کلاتھ مارکیٹ، بلوچ کالونی اور ایم اے جناح روڈ کے علاقوں میں نامعلوم افراد نےہوائی فائرنگ کی جس سے خوف و ہراس پھیل گیا اورصبح کھلنے والی دوکانیں اور بازار بند ہوگئے۔

ان واقعات کے بعد پورے شہر میں مختلف شخصیات کے قتل، ایم کیو ایم کے دفتر پر حملے اور بم دھماکوں کی افواہیں بھی گردش کرنے لگیں جس سے شہر میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے اور شہر کے طول و عرض میں تمام بازار، دوکانیں اور پیٹرول پمپس بند ہوگئے جبکہ سرکاری اور نجی دفاتر میں بھی جلدی چھٹی کردی گئی۔

ایم اے جناح روڈ پر واقع کمپیوٹر مارکیٹ کے دوکانداروں نے بتایا کہ دوکانیں کھولنے پر تاجروں کو فون پر دھمکیاں مل رہی ہیں جبکہ مختلف علاقوں سے مارکیٹس پر فائرنگ کی بھی اطلاعات مل رہی ہیں جس کے بعد یونین کی ہدایت پر وہ دوکانیں بند کر رہے ہیں۔

انہوں نے شکایت کی کہ پولیس کی جانب سے انہیں کوئی سیکورٹی بھی فراہم نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ دوکانیں بند کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کا کہنا ہے کہ حالات ایسے نہیں ہیں کہ پولیس اہلکاروں کو بازاروں اور مارکیٹس پر کھڑا کیا جائے تاہم کاروباری علاقوں میں پولیس کا گشت جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس حالات خراب کرنے والوں سے سختی سے نمٹے گی اور اسے بھی ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو گولی مارنے کے اختیارات دیئے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد صوبہ سندھ کے دوسرے حصوں کی طرح کراچی میں شدید ہنگامہ آرائی شروع ہوئی تھی جو سینچر تک جاری رہی تھی اور اس کے دوران سرکاری اعداوشمار کے مطابق صرف کراچی میں 25 اور پورے صوبے میں 43 افراد ہلاک ہوئے جبکہ سیکڑوں گاڑیوں اور دوکانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں سرکاری اور نجی املاک نذر آتش کردی گئی۔

کراچی سمیت دوسرے شہروں میں بازار اور دوکانیں چار دن تک بند رہنے کے باعث ایک جانب خوراک کی شدید قلت پائی جاتی ہے تو دوسری جانب یومیہ اجرت پر گزارہ کرنے والے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

فائل فوٹواحتجاج اور ہنگامے
سندھ میں حکومت حامی افراد کی املاک پر حملے
متضاد دعوے
حکومت کے بیانات میں تضادات کیوں؟
بینظیر آخری لمحات’آخری لمحات‘
محترمہ کو باہر نکلنے سے روکنا ناممکن تھا: مخدوم
برگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ ’قبرکشائی کیلیے تیار‘
بینظیر پوسٹمارٹم کیلیے حکومت کی پیشکش
بینظیر بھٹو قتلبینظیر بھٹو قتل
غصے کی آگ میں سندھ زیادہ کیوں جل رہا ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد