BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 January, 2008, 17:15 GMT 22:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ آج نہ جاؤ، چھٹی کرلو۔۔۔‘

کانسٹیبل محمد یعقوب کے اہل خانہ
ہلاک ہونے والے کانسٹیبل محمد یعقوب کے اہل خانہ
بادامی باغ کی شاہدہ پروین کو اس کی چھٹی حس نے کسی بری خبر کا اشارہ دیدیا تھا۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کے باہر بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے کانسٹیبل محمد یعقوب کی بیوہ ہے۔

’صبح سویرے نہا دھو کر ناشتہ کرکے وردی پہن کر جب وہ بوٹ کس رہا تھا تو نجانے کیوں میرے منہ سے نکل گیا کہ، آج نہ جاؤ۔۔۔چھٹی کرلو۔‘
شاہدہ نے بتایا کہ اس کے جواب میں اس کے شوہر نے کہا تھا کہ’ شاداں میرا ڈیوٹی پر جانا ضروری ہے۔‘

بیوگی کے تازہ دکھ کی شکار شاہدہ پروین نے کہا کہ اسے لگا تھا کہ کوئی اس کے کوبے (یعقوب) کو چھین لے گا اور وہی ہوا، اس نے بین ڈالتے ہوئے کہا کہ ’میرے بچے یتیم ہوگئے، ہم بے سہارا ہوگئے۔ میرا شوہر ملک پر قربان ہوا ہے۔‘

جمعرات کے دھماکے میں ہلاک ہونے والے تقریباً تمام پولیس اہلکار ریزررو فورس کی غازی کمپنی میں تعینات تھے اور یہ پولیس کا ایک ایسا دستہ ہے جس میں جانے کو کوئی اہلکار تیار نہیں ہوتا اور عام طور پر وہی اس میں رہتاہے جس کے پاس تگڑی سفارش نہیں ہوتی۔

محمد یعقوب اپنے ساتھی اہلکاروں کے ہمراہ جس مقام پر ہلاک ہوا تھا عین اسی مقام پر اب دوسرے پولیس اہلکار ڈیوٹی دے رہے ہیں۔

انہیں میں سے ایک اظہر جاوید سے پوچھا گیا کہ کیا اسے دوسرے خود کش حملے کا خطرہ محسوس نہیں ہوتا؟ کانسٹیبل اظہر جاوید نے کہا کہ ’ زندگی تو اللہ کی دین ہے اگر ہم ڈر گئے تو یہ ڈیوٹی کون انجام دے گا۔‘

اظہر جاوید چوکس کھڑے تھے لیکن غمگین تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوں تو اس حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام پولیس اہلکار ان کے ساتھی تھے لیکن ’شاہد غفور تو پیارا دوست تھا۔‘

 ’میرے بچے یتیم ہوگئے، ہم بے سہارا ہوگئے۔ میرا شوہر ملک پر قربان ہوا ہے۔
محمد یعقوب کی بیوہ شاہدہ
کانسٹیبل محمد یعقوب کی طرح خود اظہر جاوید کا شما ر بھی پولیس کی اس فورس میں ہوتا ہے جنہیں معمول کی سیکیورٹی ڈیوٹی دینے کے علاوہ چوبیس گھنٹے چوکس رہنے کا حکم ہے۔ جلسے جلوسوں اور ہنگامی صورتحال میں مظاہرین کو روکنے،ان پر لاٹھیاں برسانے کاکام بھی زیادہ تر انہی سے لیا جاتا ہے۔

کانسٹیبل اظہر جاوید نے کہا کہ اس سخت اور ناپسندیدہ کام کے باوجود ان کی تنخواہ دوسرے شعبوں کے ملازموں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ پولیس پر حملے بھی بڑھ گئے ہیں۔ پنجاب کے شہروں راولپنڈی، لاہور اور سرگودھا میں پولیس اہلکاروں کو پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیاہے۔

کم رینک کے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان کی تنخواہ کم اور خطرہ زیادہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی نوکری میں مزے صرف افسروں کے ہیں، عام سپاہی کے لیے نہ تو کوئی مراعات ہیں اور نہ ہی عوام میں انہیں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

لاہور خود کش حملے ہلاک ہونے والے پولیس کانسٹیبل محمد یعقوب کی بیوہ کوشوہر چھن جانے کے علاوہ معاشی دھچکا بھی لگا ہے۔

کانسٹیبل محمد یعقوب کے بھائی
کانسٹیبل محمد یعقوب لاہور کے علاقے بادامی باغ کی کی ایک گنجان اور غریب بستی میں ڈھائی تین مرلے کے ایک نیم اندھیرے مکان میں رہائش پذیر تھے۔اس آبائی مکان میں ان کے بوڑھے والدین اور تین بھائیوں کے خاندان بھی قیام پذیر ہیں۔

محمد یعقوب اپنی بیوی کے ساتھ ملکر مستقبل کی پلاننگ کیا کرتا تھا کہ وہ ایک پلاٹ خرید کر الگ گھر بنائیں گے اور اپنے بچوں کو کسی اچھے سکول میں پڑھائیں گے۔

محمد یعقوب پولیس کے کم ترین رینک پر تعینات تھے اور قلیل تنخواہ میں گھر کاگزر بمشکل ہوتا تھا۔شاہدہ نے کہا کہ ’اسی وجہ سے میں اسے کہتی تھی کہ یہ سب خواب ہیں۔۔۔ وہ کہتا تھا کہ نہیں یہ حقیقت بنے گی، ہائے میری بات سچ ہوگئی ہے، وہ تمام باتیں خواب ہوئیں اور ادھوری رہ گئیں۔‘

حکومت اور پولیس نے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لیے مجموعی طور پر آٹھ لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان کیا ہے تاہم کانسٹیبل اظہر جاوید کو اس بات کا یقین نہیں کہ اعلان کردہ معاوضہ ورثاء کو بروقت مل پائے گا۔ وہ کم رینک کے پولیس اہلکاروں کے اس طبقے میں شامل ہیں جو یہ سمجھتا ہے کہ محکمے کے فنڈز صرف افسروں کے لیے ہیں۔

دھماکہ(فائل فوٹو)’داخلی مسلح تصادم
بات اندرونی خلفشار سے کہیں بڑھ گئی
’پولیس اور سويلينز کی جلی پھٹی لاشیں‘آنکھوں دیکھا حال
’پولیس اور سويلينز کی جلی پھٹی لاشیں‘
دھماکے کے زخمیدھماکے کے بعد۔۔۔
بی بی سی کے نمائندے نے کیا دیکھا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد