’ آج نہ جاؤ، چھٹی کرلو۔۔۔‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بادامی باغ کی شاہدہ پروین کو اس کی چھٹی حس نے کسی بری خبر کا اشارہ دیدیا تھا۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کے باہر بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے کانسٹیبل محمد یعقوب کی بیوہ ہے۔ ’صبح سویرے نہا دھو کر ناشتہ کرکے وردی پہن کر جب وہ بوٹ کس رہا تھا تو نجانے کیوں میرے منہ سے نکل گیا کہ، آج نہ جاؤ۔۔۔چھٹی کرلو۔‘ بیوگی کے تازہ دکھ کی شکار شاہدہ پروین نے کہا کہ اسے لگا تھا کہ کوئی اس کے کوبے (یعقوب) کو چھین لے گا اور وہی ہوا، اس نے بین ڈالتے ہوئے کہا کہ ’میرے بچے یتیم ہوگئے، ہم بے سہارا ہوگئے۔ میرا شوہر ملک پر قربان ہوا ہے۔‘ جمعرات کے دھماکے میں ہلاک ہونے والے تقریباً تمام پولیس اہلکار ریزررو فورس کی غازی کمپنی میں تعینات تھے اور یہ پولیس کا ایک ایسا دستہ ہے جس میں جانے کو کوئی اہلکار تیار نہیں ہوتا اور عام طور پر وہی اس میں رہتاہے جس کے پاس تگڑی سفارش نہیں ہوتی۔ محمد یعقوب اپنے ساتھی اہلکاروں کے ہمراہ جس مقام پر ہلاک ہوا تھا عین اسی مقام پر اب دوسرے پولیس اہلکار ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ انہیں میں سے ایک اظہر جاوید سے پوچھا گیا کہ کیا اسے دوسرے خود کش حملے کا خطرہ محسوس نہیں ہوتا؟ کانسٹیبل اظہر جاوید نے کہا کہ ’ زندگی تو اللہ کی دین ہے اگر ہم ڈر گئے تو یہ ڈیوٹی کون انجام دے گا۔‘ اظہر جاوید چوکس کھڑے تھے لیکن غمگین تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوں تو اس حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام پولیس اہلکار ان کے ساتھی تھے لیکن ’شاہد غفور تو پیارا دوست تھا۔‘ کانسٹیبل اظہر جاوید نے کہا کہ اس سخت اور ناپسندیدہ کام کے باوجود ان کی تنخواہ دوسرے شعبوں کے ملازموں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پاکستان میں حالیہ دنوں میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ پولیس پر حملے بھی بڑھ گئے ہیں۔ پنجاب کے شہروں راولپنڈی، لاہور اور سرگودھا میں پولیس اہلکاروں کو پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیاہے۔ کم رینک کے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان کی تنخواہ کم اور خطرہ زیادہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی نوکری میں مزے صرف افسروں کے ہیں، عام سپاہی کے لیے نہ تو کوئی مراعات ہیں اور نہ ہی عوام میں انہیں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ لاہور خود کش حملے ہلاک ہونے والے پولیس کانسٹیبل محمد یعقوب کی بیوہ کوشوہر چھن جانے کے علاوہ معاشی دھچکا بھی لگا ہے۔
محمد یعقوب اپنی بیوی کے ساتھ ملکر مستقبل کی پلاننگ کیا کرتا تھا کہ وہ ایک پلاٹ خرید کر الگ گھر بنائیں گے اور اپنے بچوں کو کسی اچھے سکول میں پڑھائیں گے۔ محمد یعقوب پولیس کے کم ترین رینک پر تعینات تھے اور قلیل تنخواہ میں گھر کاگزر بمشکل ہوتا تھا۔شاہدہ نے کہا کہ ’اسی وجہ سے میں اسے کہتی تھی کہ یہ سب خواب ہیں۔۔۔ وہ کہتا تھا کہ نہیں یہ حقیقت بنے گی، ہائے میری بات سچ ہوگئی ہے، وہ تمام باتیں خواب ہوئیں اور ادھوری رہ گئیں۔‘ حکومت اور پولیس نے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لیے مجموعی طور پر آٹھ لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلان کیا ہے تاہم کانسٹیبل اظہر جاوید کو اس بات کا یقین نہیں کہ اعلان کردہ معاوضہ ورثاء کو بروقت مل پائے گا۔ وہ کم رینک کے پولیس اہلکاروں کے اس طبقے میں شامل ہیں جو یہ سمجھتا ہے کہ محکمے کے فنڈز صرف افسروں کے لیے ہیں۔ |
اسی بارے میں بمبار کے جسم کے حصوں کا ڈی این اے ٹیسٹ11 January, 2008 | پاکستان لاہور بم دھماکہ، ہلاکتوں میں اضافہ11 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||