’پاکستان میں يہ کيا ہو رہا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میرے آفس سے دو سو ميٹر کے فاصلے پر آج صبح ٹھيک گيارہ بجکر چاليس منٹ پر يہ دھماکہ ہوا اور اس قدر خوفناک و اونچی آواز آئی کہ لگتا تھا بھارت نے حملہ کرديا ہے۔ دروديوار تک ہل کر رہ گئے اور ہمارے دفتر کے تمام سٹاف ميں بھگڈر سی مچ گئي۔ تين منٹ بعد دفتر سے باہر آيا تو جائے وقوعہ کا علم ہوا جو کہ جي پي او چوک پر لاہور ہائي کورٹ کے گيٹ کے ساتھ واقع اوقاف کی بلڈنگ کے پارک کے ساتھ باہر سڑک پر تھي۔ میں نے جائے وقوعہ پر اندازاً سات سپاہيوں اور تين سويلينز کی جلی پھٹی لاشوں کو ديکھا تو متلي، افسوس، بےبسي، کم مائيگي، مايوسی اور حيرانگی جيسے جذبات و احساسات کی ملی جلی کيفيت نے ميري طبيعت پر حملہ کر ديا کہ پاکستان ميں يہ کيا ہو رہا ہے! کچھ لاشوں کے ٹکڑے ملحقہ دفاتر کی حدود میں گرے ہوئے بھی ديکھے۔ دھماکہ کے بعد ايک ليسکو کی وين، ايک رکشہ، تين کاريں، دو موٹرسائيکل، ايک مزدا ويگن اور ايک تانگہ گھوڑا تباہ ہوئے۔ عين موقعہ پر میں نے بی بی سی سے بذريعہ موبائل فون رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی تھی ليکن موبائل سروس نے کام کرنا چھوڑ ديا تھا۔ قريباً پندرہ منٹ بعد ريسکيو اور پوليس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگيس استعمال کی جس سے میں بھی متاثر ہوا۔ تباہ شدہ املاک میں سب سے بُری حالت تانگہ کی ديکھی اورگھوڑا بھي مرگيا تھا لہذا ميری دانست ميں خودکش حملہ آور نے سپاھيوں کے کھڑے ہونے والے فٹ پاتھ پر تانگہ رکوايا اور خود کو دھماکہ سےاڑا ديا۔‘ نجیب الرحمان ہماری ویب سائٹ کے قاری ہیں اور دھماکے کے وقت وہاں موجود تھے۔ یہ ان کا آنکھوں دیکھا حال ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان: خودکش حملوں کی تاریخ09 November, 2007 | پاکستان ’دو سال میں 140 خودکش بمبار‘10 January, 2008 | پاکستان لاہور بم دھماکہ، تیئس افراد ہلاک10 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||