BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 January, 2008, 08:46 GMT 13:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: بمبار کا ڈی این اے ٹیسٹ

 دھماکے کی جگہ
پولیس دھماکے میں قبائلی عناصر کے ہاتھ کو مسترد نہیں کر رہی

پاکستانی تفتیش کاروں نے جمعرات کو لاہور میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث خود کش بمبار کے جسم کے حصے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیئے ہیں۔


خبررساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق ’مشتبہ اسلامی شدت پسند کی شناخت تا حال نہیں ہو سکی‘ اور ’پولیس کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کے پیچھے قبائلی عناصر کار فرما ہو سکتے ہیں۔‘

سینئر پولیس افسر آفتاب چیمہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ دھماکہ انہیں لوگوں کا کام ہے جو پہلے بھی ملک کے دیگر حصوں میں ایسے دھماکے کر چکے ہیں۔ بمبار کا سر اور ٹانگیں مل گئی ہیں جنہیں لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔

ادھر لاہور پولیس نے ہائی کورٹ کے قریب ہونے والے بم دھماکے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا ہے۔مقدمہ دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت پولیس اسٹیشن پرانی انارکلی میں درج کیا گیا ہے۔

دوسری جانب بم دھماکے کی تحقیات کے لیے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ کے قریب بم دھماکے میں اکیس پولیس اہلکاروں سمیت چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ساٹھ سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

ہلاک ہونے والے میں سے سولہ پولیس اہلکاروں کی اجتماعی نماز جنازہ جمعرات کی شب پولیس لائنز لاہور میں ادا کی گئی جس میں گورنر پنجاب جنرل(ر) خالد مقبول اور وزیر اعلیْ پنجاب جسٹس (ر) شیخ اعجاز نثار سمیت پولیس حکام نے شرکت کی جس کے بعد ان کی میتیں تدفین کے لیے ورثاء کے حوالے کردیں گئیں۔

شہر میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

دھماکے کے بعد سٹی پولیس چیف ملک محمد اقبال نے جائے وقوعہ پر موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس خود کش حملے کا ہدف پولیس اہلکار تھے۔

یہ دھماکہ اس مقام پر ہوا جہاں وکلاء کی ایک احتجاجی ریلی پہنچنے والی تھی۔ وکلاء ہر جمعرات کو حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔

وکیلوں کی ایک ریلی ایوان عدل سے ہائی کورٹ کی جانب روانہ ہوچکی تھی جبکہ ہائی کورٹ بار ایسوس ایشن کا اجلاس ختم ہونے کے بعد یہ اعلان ہوا تھا کہ وکیل ریلی کے لیے باہر نکلیں لیکن اسی دوران ایک بڑے دھماکے کی آواز سنائی دی گئی۔

جائے وقوع پر موجود انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب احمد نسیم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کی نفری وکلاء کی حفاظت کے لیے تعینات کی گئی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور پیدل تھا۔
عینی شاہدین
میو ہسپتال میں زیر علاج پولیس کانسٹیبل امتیاز حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیوٹی پر کھڑا تھا کہ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور ہر طرف دھواں چھا گیا۔ ’جب تھوڑا ہوش آیا تو اپنے ساتھی پولیس اہلکاروں کی لاشیں دیکھیں اور کئی کو زخمی حالت میں مدد کے لیے پکارتے ہوئے پایا۔‘

ندیم نامی ایک زخمی ایک رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ مال روڈ سے مڑا ہی تھا کہ دھماکہ ہو گیا اور اس کے بعد اسے کچھ ہوش نہیں رہا۔

دھماکے کے زخمیدھماکے کے بعد۔۔۔
بی بی سی کے نمائندے نے کیا دیکھا؟
پنڈی میں دھماکے کے بعد کا منظراچھی خبرکاانتظار
خود کش حملے ہی یا کوئی اچھی خبر بھی؟
دھماکے کے متاثرینخود کش حملے، تاریخ
پاکستان: پہلا خودکش حملہ 1995 میں ہوا
پاکستان اور نو گیارہ
9/11 اور پاکستان میں بدلتی ہوئی صورت حال
افغان سرحد پر پاکستانی فوجیپاکستان کا طالبان جوا
پاکستان کی افغان سرحد پر نازک پالیسی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد