لاہور: بمبار کا ڈی این اے ٹیسٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی تفتیش کاروں نے جمعرات کو لاہور میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث خود کش بمبار کے جسم کے حصے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیئے ہیں۔ خبررساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق ’مشتبہ اسلامی شدت پسند کی شناخت تا حال نہیں ہو سکی‘ اور ’پولیس کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کے پیچھے قبائلی عناصر کار فرما ہو سکتے ہیں۔‘ سینئر پولیس افسر آفتاب چیمہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ دھماکہ انہیں لوگوں کا کام ہے جو پہلے بھی ملک کے دیگر حصوں میں ایسے دھماکے کر چکے ہیں۔ بمبار کا سر اور ٹانگیں مل گئی ہیں جنہیں لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ ادھر لاہور پولیس نے ہائی کورٹ کے قریب ہونے والے بم دھماکے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا ہے۔مقدمہ دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت پولیس اسٹیشن پرانی انارکلی میں درج کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بم دھماکے کی تحقیات کے لیے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ کے قریب بم دھماکے میں اکیس پولیس اہلکاروں سمیت چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ساٹھ سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والے میں سے سولہ پولیس اہلکاروں کی اجتماعی نماز جنازہ جمعرات کی شب پولیس لائنز لاہور میں ادا کی گئی جس میں گورنر پنجاب جنرل(ر) خالد مقبول اور وزیر اعلیْ پنجاب جسٹس (ر) شیخ اعجاز نثار سمیت پولیس حکام نے شرکت کی جس کے بعد ان کی میتیں تدفین کے لیے ورثاء کے حوالے کردیں گئیں۔ شہر میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ دھماکے کے بعد سٹی پولیس چیف ملک محمد اقبال نے جائے وقوعہ پر موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس خود کش حملے کا ہدف پولیس اہلکار تھے۔ یہ دھماکہ اس مقام پر ہوا جہاں وکلاء کی ایک احتجاجی ریلی پہنچنے والی تھی۔ وکلاء ہر جمعرات کو حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔
وکیلوں کی ایک ریلی ایوان عدل سے ہائی کورٹ کی جانب روانہ ہوچکی تھی جبکہ ہائی کورٹ بار ایسوس ایشن کا اجلاس ختم ہونے کے بعد یہ اعلان ہوا تھا کہ وکیل ریلی کے لیے باہر نکلیں لیکن اسی دوران ایک بڑے دھماکے کی آواز سنائی دی گئی۔ جائے وقوع پر موجود انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب احمد نسیم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کی نفری وکلاء کی حفاظت کے لیے تعینات کی گئی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور پیدل تھا۔ ندیم نامی ایک زخمی ایک رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ مال روڈ سے مڑا ہی تھا کہ دھماکہ ہو گیا اور اس کے بعد اسے کچھ ہوش نہیں رہا۔ |
اسی بارے میں لاہور بم دھماکہ، تیئس افراد ہلاک10 January, 2008 | پاکستان ’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘19 October, 2007 | پاکستان پاکستان: خودکش حملوں کی تاریخ09 November, 2007 | پاکستان چار ماہ میں آٹھ خودکش حملے28 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||