BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 January, 2008, 20:00 GMT 01:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’داخلی مسلح تصادم‘

 خود کش حملہ(فائل فوٹو)
پاکستان میں تصادم اپنی ہی فوج کے خلاف جاری ہے
پچھلے سال پاکستان میں تقریباً پچپن خودکش حملے ہوئے جن میں چھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ عراق میں سنہ دو ہزار سات میں کہیں زیادہ اور نہایت بدترین بم حملے اور خودکش حملے ہوئے۔تاہم عراق، افغانستان اور پاکستان میں خود کش حملوں میں بہت بڑا فرق یہ ہے کہ عراق اور افغانستان میں یہ حملے قابض امریکی فوج کو ملک سے نکالنے کے لیے ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ حملے اپنی ہی فوج اور سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف ہو رہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان اور صوبہ سرحد میں طالبان اور سکیورٹی فورسز (جس میں فوجی اور نیم فوجی دستے شامل ہیں) کے درمیان جھڑپیں وقتاً فوقتاً جاری ہیں۔

مبصرین کے مطابق یہ تصادم اندرونی خلفشار سے بڑھ کر ’داخلی مسلح تصادم‘ (انٹرنل آرمڈ کانفلکٹ) کے زمرے میں آ گیا ہے۔

جنیوا کنونشنز کے مطابق داخلی مسلح تصادم میں ایک ملک کی فوج اور اسی ملک میں مسلح گروہ کے درمیان تصادم ہو۔ اس تصادم کی شدت زیادہ اور ایک لمبے دورانیے تک رہے۔ اس کے علاوہ مسلح گروہ کا علاقے پر قبضہ ہو اور اس علاقے پر ان ہی کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس مسلح گروہ کی پہچان ہو اور اس کی ایک ذمہ دار کمانڈ ہو۔

پاکستان ایک بار پھر اُسی صف میں آ کھڑا ہوا ہے جس میں عراق اور افغانستان بھی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عراق اور افغانستان میں ’داخلی مسلح تصادم اس لیے ہے کہ مسلح گروہ ملکی اور قابض امریکی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں جب کہ پاکستان میں یہ تصادم اپنی ہی فوج کے خلاف جاری ہے۔

بم دھماکوں اور خودکش حملوں سے باہر نکلیں تو سیاسی طور پر بھی پاکستان کچھ بہتر نہیں کر رہا۔ آٹھ سال ملک پر ایک بار پھر فوجی حکمران نے حکومت کی اور اقتدار کے اس دورانیئے میں مبصرین کے مطابق تمام اداروں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

 پاکستان ایک بار پھر اُسی صف میں آ کھڑا ہوا ہے جس میں عراق اور افغانستان بھی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عراق اور افغانستان میں ’داخلی مسلح تصادم اس لیے ہے کہ مسلح گروہ ملکی اور قابض امریکی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں جب کہ پاکستان میں یہ تصادم اپنی ہی فوج کے خلاف جاری ہے۔

سپریم کورٹ نے جہاں آزاد ہونے کی کوشش کی چیف جسٹس کو لائن حاضر اور غیر فعال کر دیا گیا۔ ان کی بحالی کے دو مہینے کے اندر پوری عدلیہ پر دھاوا بول دیا گیا۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی سی او کے تحت حلف اٹھوایا گیا اور ظاہر ہے عدلیہ ہم سوچ ہی آئی۔

دوسری طرف سیاستدانوں کے ساتھ بھی کچھ اچھا برتاؤ نہیں کیا گیا۔ پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملک پہنچنے پر دوبارہ ملک بدر کردیا گیا۔

اس کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ جنرل پرویز مشرف کے سر یہ سہرا جا تا ہے کہ انہوں نے ملک میں چھٹی اور ساتویں ایمرجنسیاں لگائیں۔

انیس سو ننانوے اور سنہ دو ہزار سات میں فرق صرف اتنا تھا کہ انیس سو ننانوے میں اردلیوں کے چمکائے ہوئے بوٹوں کے تلے سیاسی حکومت روندی گئی اور سپریم کورٹ کے جسٹس صاحبان نظریہ ضرورت کے تحت ان فوجی آمروں کو قانونی تحفظ فراہم کردیتے تھے۔ جب کہ دو ہزار سات میں سپریم کورٹ خود ان چمکتے جوتوں تلے آگئی۔

ابھی ایمرجنسی کے اثرات سے پاکستان کی فضا سوگور تھی کہ پیپلز پارٹی کی رہنماء بینظیر بھٹو کے قتل نے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس دن دہاڑے قتل کو دو ہفتے ہونے کو آئے ہیں اور ابھی تک یہ ہی تعین نہیں ہو رہا کہ آیا سابق وزیر اعظم اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی رہنماء بینظیر بھٹو کی موت سنائپر سے ہوئی یا اس نوجوان کی پستول سے جو فوٹو میں صاف نظر آ رہا ہے۔

چلیں سیاست اور فوج کا کردار تو پاکستان کی تاریخ میں ایسا ہی رہا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بحرانوں نے عوام کو شکنجے میں لیا ہوا ہے۔

اب گندم کے ہی بحران کو دیکھ لیں۔ پاکستان بھر میں آٹے کی قلت ہے اور لوگوں کو خورد نوش کی اشیا کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونا پڑ رہا ہے جس کی اس سال پیداوار دو کروڑ تینتیس لاکھ ٹن ہوئی اور تقریباً چار لاکھ ٹن سٹاک پچھلے سال کا تھا۔ اس طرح اس برس کُل دو کروڑ سینتیس لاکھ ٹن کا سٹاک تھا۔

پاکستان میں گندم کی سالانہ کھپت دو کروڑ بیس لاکھ ٹن ہے جس میں افغانستان کو دی جانے والی ساٹھ لاکھ ٹن گندم بھی شامل ہے۔

اس بحران کے علاوہ گیس اور بجلی کے بحرانوں نے بھی عوام کی زندگی دوبھر کردی ہے۔

دھماکے کے متاثرینخود کش حملے، تاریخ
پاکستان: پہلا خودکش حملہ 1995 میں ہوا
پاکستان اور نو گیارہ
9/11 اور پاکستان میں بدلتی ہوئی صورت حال
افغان سرحد پر پاکستانی فوجیپاکستان کا طالبان جوا
پاکستان کی افغان سرحد پر نازک پالیسی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد