BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 January, 2008, 01:40 GMT 06:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور کی ایک خون آشام شام

متاثرِ پشاور دھماکہ
صحافی فلمیں اور تصاویر بنانے میں مصروف تھے جبکہ لواحقین غم سے نڈھال
دن بھر کی تھکاوٹ کو سمیٹتے ہوئے جب شام کے ساڑھے چھ بجے میں دفتر سے باہرنکلا تو موسم کی خوبصورت اور موسلادھار بارش کی بوندوں نے تھکاوٹ کو تقریباً دھو ہی دیا، لیکن کچھ ہی دیر بعد ایک فون نے اس خوبصورت شام کو ایک خون آشام شام میں بدل کے رکھ دیا۔

فون کرنے والے نے خبر سنائی کہ جنگی محلہ میں واقع امام بارگاہ پر خودکش حملہ ہوا ہے، جس میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔اس دوران بارش اور بھی تیز ہوگئی تھی اور فون پر معلومات جمع کرتے کرتے دو جگہوں پر ایکسیڈنٹ کرتے کرتے بچا۔

پولیس نے کئی مقامات پر سڑکیں بند کردی تھیں، جس کی وجہ سے جگہ جگہ پر ٹریفک بلاک تھی اور مجھے جائے وقوعہ تک پہنچنے میں پندرہ منٹ کی بجائے چالیس منٹ کا وقت لگا۔ جائے وقوعہ پر پہنچ کر ایدھی فاؤنڈیشن کی امدادی ٹیموں کو زخمیوں کو ہسپتال لے جاتے ہوئے دیکھا۔

لوگ امام بارگاہ کے سامنے سوگوار کھڑے تھے۔ نوجوانوں کا ایک ٹولہ حکومت کے خلاف نعرے بازی میں مصروف تھا، جنہیں ان کے بزرگ بڑی مشکل سے خاموش کرنے میں کامیاب ہوئے۔

میرے ہاتھ میں ٹیپ ریکارڈر اور کیمرہ دیکھ کر ایک شخص نے مجھے اپنی طرف کھینچا اور دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا ’دیکھو متولی صاحب بھی شہید ہوگئے۔ کتنا ظلم کیا ان ظالموں نے۔‘ انہوں نے اپنا نام لئیق احمد بتایا اور کہا کہ دھماکہ کے وقت وہ خود بھی مجلس میں موجود تھے۔

گھڑیال کی سوئیاں عین دھماکے کے وقت پر رکی ہوئی تھیں

ان کے بقول ’مجلس میں ایک سو پچاس سے زیادہ افراد شریک تھے کہ اس دوران اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ لوگوں نے بھاگنا شروع کیا لیکن میں انہیں لیٹنے کے لیے کہتا رہا، مگر جب میں نے آس پاس دیکھا تو صرف انسانی جسم کے لوتھڑے نظر آئے۔‘

امام بارگاہ کے گیٹ پر بعض افراد کھڑے تھے جو صحافیوں اور پولیس اہلکاروں کے علاوہ کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ اندر جا کر دیکھا تو انسانی اعضاء، خون، جوتیاں، منبر اور کرسیاں فرش پر بکھرے ہوئے پڑے تھے۔

چار مسخ شدہ لاشوں کو کپڑوں سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ مساجد اور قرآنی آیات سے مزین تصاویر دیواروں پر لٹک رہی تھیں، جبکہ گھڑیال کی سوئی عین دھماکے کے وقت چھ بجکر اڑتیس منٹ پر رکی ہوئی تھی۔

پولیس معمول کے مطابق شواہد اکھٹا کرنے اور صحافی فلمیں بنانے اور تصاویر کھینچنے میں مصروف تھے، جبکہ لواحقین سر پکڑ کر زور زور سے روتے رہے۔ایک نوجوان کو جب میں نے دلاسہ دینے کی کوشش کی تو انہوں نے مجھے انسانی اعضاء دکھاتے ہوئے کہا ’یہ دیکھو ان انسانوں کا کیا حشر کیا گیا ہے۔‘

تین منزلہ اس امام بارگاہ کا صحن بہت چھوٹا ہے اور یہ گنجان آباد اور تاریخی بازار قصہ خوانی اور کابلی پولیس سٹیشن سے تقریباً آدھ کلومیٹر کے فاصلے پر تنگ و تاریک گلیوں میں واقع ہے، جہاں پر سکیورٹی کے انتظامات کرنا ایک لحاظ سےاس لیے آسان عمل ہے کہ اگر گلی کے کونے پر بھی محض ایک پولیس اہلکار کو تعینات کیا جائے تو کوئی بھی شخص اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو کر گزر نہیں سکتا۔

تنگ و تاریک گلیوں میں سکیورٹی کا موثر انتظام کرنا زیادہ مشکل نہ تھا

مرزا قاسم امام بارگاہ سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ڈھکی دلگراں کا امام بارگاہ واقع ہے جسے پچھلے سال نویں محرم الحرام کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں بعض اعلیٰ پولیس اہلکاروں سمیت بارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

عجیب اتفاق یہ بھی ہے کہ گزشتہ سال ہونے والا حملہ اور تازہ واقعہ صرف دو گھنٹے کے فرق سے ہوا ہے۔

کراچی میں دھماکے
گزشتہ آٹھ سال میں اٹھائیس دھماکے ہوئے
کانسٹیبل کی بیوا
’میرا شوہر پاکستان پر قربان ہوا ہے‘
لاہور میں خودکشلاہور خودکش حملہ
ہائی کورٹ کے باہر دھماکے کے بعد کے مناظر
دھماکہ(فائل فوٹو)’داخلی مسلح تصادم
بات اندرونی خلفشار سے کہیں بڑھ گئی
بےنظیر بھٹو خود کش حملے میں ہلاکبےنظیر بھٹو
خود کش حملے میں ہلاک
فوجفوج پر خودکش حملے
آئی ایس آئی اور جی ایچ کیو حملہ آوروں کا نشانہ
سرگودھا میں حملہسرگودھا میں حملہ
پاکستانی آرمی کے بعد اب فضائیہ پر خودکش حملہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد