بلوچستان:صحافی قتل،املاک پرحملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ایک معروف صحافی فوٹوگرافر ڈاکٹر چشتی مجاہد کو سنیچر کی صبح نامعلوم شخص نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا ہے جبکہ ضلع آواران میں انتخابی کمیشن کے دفتر پر راکٹ داغے گئے ہیں اور سوئی میں دو گیس پائپ لائنوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا ہے۔ کوئٹہ کے پولیس افسر محمد اکبر نے بتایا ہے کہ فوٹوگرافر ڈاکٹر چشتتی مجاہد ہسپتال جانے کے لیے گھر سے نکلے تھے اور گاڑی میں بیٹھ رہے تھے کہ اچانک پہلے سے گھات لگائے بیٹھے ایک شخص نے ان پر دو فائر کیے۔ پولیس کے مطابق انہیں ایک گولی سر میں اور ایک سینے پر لگی ہے۔ ڈاکٹر چشتتی مجاہد کوئٹہ کے علاقے سیٹلائیٹ ٹاؤن میں رہائش پذیر تھے اور ہیپلر ہسپتال میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ اخبار جہاں میں بلوچستان کی سیاسی ڈائری اور چلتن کارنر کے نام سے غیر سیاسی موضوعات پر کالم لکھا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ گورنر ہاؤس میں مختلف شخصیات کے دوروں کی فوٹو گرافی بھی کیا کرتے تھے۔ ادھر آواران سے پولیس نے بتایا ہے کہ کل رات نامعلوم افراد نے انتخابی کمیشن کے دفتر اور ٹیلیفون ایکسچینج کے قریب تین راکٹ داغے ہیں ۔ اس حملے میں الیکشن کمیشن کے کمپیوٹر اور دیگر سامان تباہ ہوگیا اور عمارت کی چھت گر گئی۔ ڈیرہ بگٹی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد نے دو بڑی گیس پائپ لائنوں کو دھماکوں سے اڑا دیا ہے۔ ان میں ایک بیس انچ قطر کی پائپ لائن ہے جو پیر کوہ سے سوئی جاتی ہے اور دوسری اٹھارہ انچ قطر کی پائپ لائن سوئی سے کراچی کے لیے گیس کی ترسیل کرتی ہے۔ خود کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے گیس پائپ لائنوں پر حملوں کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان میں پانچ افراد قتل04 January, 2008 | پاکستان بلوچستان: ایک ہلاک تین زخمی29 January, 2008 | پاکستان بلوچستان:پرتشدد واقعات، گرفتاریاں03 February, 2008 | پاکستان بلوچستان: متعدد دھماکے، کئی ہلاک 04 February, 2008 | پاکستان بلوچستان، سپن بولدک، تین دھماکے07 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||