بلوچستان میں پانچ افراد قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقہ قلعہ عبداللہ میں نا معلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے پانچ لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے جن میں ایک ہی خاندان کے چار افراد شامل ہیں۔ قلعہ عبداللہ کے پولیس اہلکار وزیر خان ناصر نے بتایا کہ دو گروہوں میں پرانی دشمنی چلی آرہی تھی۔ جمعہ کی صبح ایک گروہ کے لوگوں نے دوسرے گروہ کے افراد پر اس وقت فائرنگ شروع کر دی جب وہ بازار سے گزر رہے تھے۔ پولیس حکام کے مطبق ہلاک ہونے والے افراد میں حنیف آغا ان کے تین بیٹے اور ایک ساتھی شامل ہے۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ وزیر خان ناصر نے بتایا ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان بیس سال سے دشمنی چلی آرہی ہے اور اس سے پہلے بھی ان کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش رہی ہے اور وہاں چوری ڈکیتی اور دیگر جرائم معمول کی بات بن گئے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں بھی اس بارے میں کئی مرتبہ آواز اٹھائی گئی ہے۔ قلعہ عبداللہ کوئٹہ سے چمن اور افغانستان جانے والی شاہراہ پر واقع ہے ۔ قلعہ عبداللہ میں افغان پناہ گزینوں کا کیمپ بھی قائم کیا گیا تھا اور اس کیمپ کے خلاف گزشتہ سال کارروائی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے تھے لیکن مقامی قبائل کی جانب سے مزاحمت کے بعد کیمپ ختم کرنے کا منصوبہ ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران کم سے کم تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں بلوچستان: ’حالات بہتر‘ وزارتِ داخلہ19 June, 2007 | پاکستان لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرہ01 September, 2007 | پاکستان فرنٹیئر کور کے دو جوان ہلاک20 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||