بلوچستان سردی کی لپیٹ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے کئی اضلاع میں برفباری اور بارشوں سے راستے بند ہو گئے ہیں، افغانستان کی سرحد کے ساتھ علاقوں میں شدید سردی کی لہر سے لوگوں گھروں تک محدود ہو گئے ہیں اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ کوئٹہ میں درجہ حرارت منفی دس سنٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے اور کوئٹہ کو چمن اور پھر افغانستان سے ملانے والی شاہراہ کوژک کے مقام پر شدید برفباری کی وجہ سے بند ہے۔ اس شاہراہ پر بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ چمن سے مقامی صحافی نور زمان اچکزئی نے بتایا ہے حالات اس قدر سنگین ہو گئے ہیں کہ عام لوگ سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں اور انہیں ایندھن اور خوراک دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایل پی جی گیس کی قیمت ایک سو روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے جبکہ ٹماٹر اسی روپے کلو اور آٹا دستیاب ہی نہیں ہے۔ چمن سے انجمن تاجران کے صدر محمد ہاشم خان نے بتایا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس طرح کے حالات پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چرواہوں اور ان کے مویشیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ راستے بند ہیں شہر سنسان ہو چکا ہے۔ ادھر مکران ڈویژن کے شہروں میں حالیہ بارشوں سے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ نوشکی اور قلات کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے حکام نے بتایا ہے کہ بلوچستان سے موسم کا یہ نظام خارج ہورہا ہے لیکن سردی کی شدت مزید پانچ چھ روز تک رہے گی۔ بدھ کو کوئٹہ میں درجہ حرارت منفی دس قلات میں منفی بارہ ژوب میں منفی چھ دالبندین اور نوشکی میں بھی درجہ حرات نقطہ انجماد سے کئی درجے کم رہا ہے۔ کوہلو کے ضلعی ناظم انجینیئر علی گل مری نے بتایا ہے کہ کوہلو میں ایک فٹ اور میوند تحصل میں پہلی مرتبہ برفباری ہوئی ہے اس طرح گزشتہ روز ہرنائی سے بھی برفباری کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان، برفباری کا سلسلہ جاری09 January, 2008 | پاکستان طوفان اور بارشیں، ہزاروں لوگ بے گھر27 June, 2007 | پاکستان سندھ میں بارشوں کا نیا سلسلہ08 August, 2007 | پاکستان ساحلی علاقوں میں طوفان کا خدشہ07 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||