BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 August, 2007, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ میں بارشوں کا نیا سلسلہ

سندھ میں طوفانی بارش(فائل فوٹو)
کراچی سمیت زیریں سندھ میں تیز ہواؤں کے ساتھ تیز بارش کا امکان ہے
پاکستان کے صوبہ سندھ میں طوفانی بارشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور صوبائی حکومت نے امکانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دس اضلاع میں انتظامیہ کو الرٹ کر دیا ہے ۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں بارشوں کا یہ سلسلہ ہندوستان کے علاقے مدھیہ پردیش سے شروع ہوا ہے جس کا رخ مغرب اور شمال مغرب کی جانب ہے۔

محکمۂ موسمیات کے اہلکار سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت زیریں سندھ میں تیز ہواؤں کے ساتھ تیز بارش کا امکان ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سمندری طوفان کا کوئی امکان نہیں مگر جب بارشوں کا یہ سلسلہ بدھ کو بحیرہ عرب میں شمال کی جانب سے داخل ہوگا تو طوفان کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے بھی ماہی گیروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نو سے گیارہ اگست تک گہرے سمندر میں جانے سے گریز کریں کیونکہ ان دنوں سمندر میں طغیانی ہو سکتی ہے۔

سندھ کے علاقوں تھر پارکر ، بدین، ٹھٹہ ، حیدرآباد سمیت کئی علاقوں میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ بارش کا سلسلہ بدھ کی شام سے شروع ہوگیا ہے۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین انوار حیدر کا کہنا ہے کہ نو اور دس اگست کو سندھ میں شدید بارش کا امکان ہے جس سے کراچی، حیدرآباد، ٹھٹہ بدین، عمرکوٹ، میرپورخاص اور سانگھڑ سمیت جنوبی سندھ کے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تمام ضلعی حکام کو متنبہ کر دیا ہے کہ وہ اپنے انتظامات مکمل رکھیں اور خاص طور پر اگر جنوبی سندھ کے کچھ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ضرورت پڑے تو اس کی بھی تیاریاں کی جائیں ۔

انوار حیدر کے مطابق یہ بھی ہدایات دی گئیں ہیں کہ نشیبی علاقے کے رہائشیوں کو بتایا جائے کہ اگر بارش شدید ہوجائے تو وہ نقل مکانی کے لیے تیار رہیں اور محکمۂ صحت کو کہا گیا کہ وہ ہسپتالوں میں تمام سہولیات کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔

یاد رہے کہ ایک ماہ قبل سندھ میں ہونے والی شدید بارشوں سے متاثرہ ہزاروں لوگ اس وقت بھی کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور آنے والی بارشیں ان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں ۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین کے مطابق اس وقت دادو اور قمبر میں پندرہ ہزار سے زائد لوگ ریلیف کیمپوں میں ہیں اور کچھ لوگ بچاؤ بندوں اور سڑکوں پر شامیانوں تلے پڑے ہیں۔ ان کے مطابق ابھی تک ان لوگوں کے دیہاتوں سے پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی ہے اور اگر بارش آتی ہے تو وہ شدید مشکلات کا شکار ہوں گے مگر ان کی منتقلی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد