BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 August, 2007, 14:37 GMT 19:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ساحلی علاقوں میں طوفان کا خدشہ

گڈانی (فائل فوٹو)
جون کے اواخر میں بھی طوفان گڈانی سے ساحل سے ٹکرایا تھا
صوبہ سندھ اور بلوچستان میں اگلے چوبیس سے چھتیس گھنٹوں میں شدید سمندری طوفان کا اندیشہ ہے۔

وفاقی حکومت کی نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے چیرمین لیفٹنینٹ جنرل (ریٹائرڈ) فاروق احمد خان کے مطابق محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مرکزی بھارت کے اوپر موسمی حالات میں تغیر پیدا ہو رہا ہے جس کی وجہ سے بحیرہ عرب میں طوفان وقوع پذیر ہو رہا ہے اور یہ سمندری طوفان اگلے چوبیس سے چھتیس گھنٹوں میں پاکستان کے ساحلی علاقوں تک پہنچ جائے گا جس سے کراچی اور صوبہ سندھ کے زیریں علاقوں کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں بھی شدید بارش کا امکان ہے۔

منگل کے روز وزیرِ اعظم ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران فاروق احمد نے خبردار کیا کہ متوقع طوفان کا بائیس جون کو صوبہ بلوچستان اور سندھ میں تباہی برپا کرنے والے سمندری طوفان کی طرح شدید ہو نے کا اندیشہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ متعلقہ صوبائی حکومتوں کو خبردار کر دیا گیا ہے کہ متوقع ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا لیں۔ اس سلسلے میں ان سے کہا گیا ہے کہ ماہی گیروں کے سمندر میں مچھلی کے شکار کے لیے جانے پر پابندی لگا دی جائے تاکہ ان کی جانوں کو لاحق خطرات کا تدارک کیا جاسکے۔

فاروق احمد نے کہا کہ وفاقی حکومت کوشش کر رہی ہے کہ جتنی احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکی ہیں وہ کر لی جائیں تاکہ کم سے کم نقصان ہو۔ انھوں نے توقع کا اظہار کیا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی وجہ سے بائیس جون والے طوفان سے ہونے والی تباہ کاریاں اس دفعہ نہیں ہونگی۔

صوبہ بلوچستان اور سندھ میں گذشتہ سمندری طوفان اور اس کے بعد بارشوں متاثرہ علاقوں میں پیدا ہونے والی صورتِحال ، اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات اورنیشنل ڈیزاسٹر مینینجمینٹ اتھارٹی کی جانب سے کیے گۓ بحالی کے کاموں کے بارے میں فاروق احمد نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں کل تین سو تیس افراد ہلاک جبکہ دو سو چوبیس تا حال لا پتہ ہیں۔

دونوں صوبوں میں کل چھ سو پچاس دیہات متاثر ہوۓ، اٹھاسی ہزار گھر متاثر ہوۓ ، پچیس لاکھ لوگ متاثر ہوۓ ، چار لاکھ لوگ بے گھر ہوۓ جبکہ بتیس ہزار افراد متاثرین کی امداد کے لیے لگاۓ گۓ کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوۓ۔

انھوں نے کہا کہ گو کہ طوفانی ہواؤں سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کا اچھا خاصا کام کر لیا گیا تھا جس کی وجہ سے بجلی کی ترسیل شروع ہوگئ تھی لیکن دو روز پہلے بلوچستان اور صوبہ سندھ میں بارشوں کی وجہ سے بلوچستان اور سندھ کے ضلع دادو میں ایک بار پھر بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

فاروق احمد کے بقول صدر پرویز مشرف کے اعلان کے تحت بلوچستان کے متاثرہ لوگوں میں اب تک ستائیس کڑوڑ اور تیس لاکھ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں جبکہ سندھ میں اب تک صرف دو کڑوڑ اور چالیس لاکھ روپے تقسیم کیے جا سکے ہیں۔ دونوں صوبوں میں ساٹھ ساٹھ کڑوڑ روپے تقسیم کیے جانے ہیں ۔ سندھ میں تھوڑے پیسے تقسیم کیے جانے کی وجہ بتاتے ہوۓ انھوں نے کہا کہ وہاں کی حکومت نے سروے کرنے میں دیر لگائی۔

انھوں نے کہاکہ اس رقم میں سے ہر متاثرہ خاندان کو پندرہ پندرہ ہزار روپے دیے جارہے ہیں جبکہ بحالی کے کاموں کے اگلے مرحلے میں ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ضروریاتِ زندگی کا تعین کرنے کے لیے کیے جانے والے سروے کے ایک ہفتے میں آجانے کے بعد ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت متاثرہ لوگوں کی مکمل خطوط پر بحالی شروع کی جاۓ گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد