BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 16 February, 2008 - Published 08:27 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات: ملک بھر میں 7335 امیدوار

الیکشن کمشن
قومی اسمبلی میں عام نشستوں کی تعداد 272 اور صوبائی اسمبلیوں میں عام نشستوں کی تعداد 577 ہے
پاکستان میں اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے پورے ملک سے سات ہزار تین سو پینتیس امیدوار قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات لڑ رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں عام نشستوں کی تعداد 272 اور صوبائی اسمبلیوں میں عام نشستوں کی تعداد 577 ہے۔

ایک جائزے کے مطابق پورے ملک پر فی نشست پر 8.6 امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔ جن میں سے اکثریت کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ ن، جمعیت علما اسلام، ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی سے ہے، جبکہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے والے امیدواروں کی تعداد بہت کم دکھائی دیتی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ملک میں اہل ووٹروں کی تعداد 8 کروڑ، 9 لاکھ دس ہزار ہے، جن میں مرد ووٹر 4 کروڑ، 53 لاکھ اور خواتین ووٹروں کی تعداد 3 کروڑ، 57 لاکھ ہے۔

خواتین ووٹروں کی ایک بڑی تعداد ہونے کے باوجود ملک بھر سے صرف 158 خواتین امیدوار انتخاب لڑ رہی ہیں، جن میں 98 صوبائی اور 60 قومی اسمبلی کی نشستوں پر امیدوار ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی 445 عام نشستوں کے لیے 3 ہزار 314 امیدوار ہیں، سندھ میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی 191 عام نشستوں کے لیے، 2 ہزار 95 امیدوار،ہیں، اس طرح صوبہ سرحد کی 134 قومی اور صوبائی اسمبلی کی عام نشستوں کے لیے ایک ہزار 25 امیدوار ہیں، صوبہ بلوچستان کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی 65 نشستوں کے لیے 684 امیدوار ہیں۔

وفاقی حکومت کے ماتحت علاقے فاٹا کی قومی اسمبلی کی بارہ نشستوں کے لیے 183 امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔

ملک بھر میں آٹھ کروڑ نو لاکھ ووٹروں کے لیے 64 ہزار 176 پولنگ سٹیشن، اور ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے لیے مختلف سرکاری محکموں کے 5 لاکھ 71 ہزار ملازمین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جن کو بطور پرزائیڈنگ افسر، اسٹنٹ پرزائیڈنگ افسر اور پولنگ افسر مقرر کیا گیا ہے، ان میں مرد اور خواتین ملازم شامل ہیں۔

الیکشن سے قبل تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران یعنی سیشن جج صاحبان کے پاس بیلٹ باکس اور سترہ کروڑ سے زائد بیلٹ پیپر پہنچائے گئے ہیں۔

انتخابی جلسہکوئی بھی جلسہ نہیں
اس بار انتخابی مہم کا خاتمہ لاہور میں نہیں
ٹیپسایک اور ریکارڈنگ
ملک قیوم کی انتخابی دھاندلی پرمبینہ ریکارڈنگ
بینظیر بھٹو’بینظیر قتل کے بعد‘
قوم پرستوں اور پیپلزپارٹی میں قربت کب تک؟
حامد ناصر چٹھہ گوجرانوالہ الیکشن
ق لیگ کےاہم رہنما پر مقابلہ پی پی،ن لیگ کا
مولانا فضل الرحمٰناب ووٹ نہیں دیں گے
وزیر، محسود قبائل کے مولانا سےگلے شکوے
قوم پرست باہر
بلوچ قوم پرست انتخابات سے باہر رہیں گے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد