BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 15 February, 2008 - Published 21:41 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تھانے میں واقفیت، ووٹ کی ضمانت‘

نواز شریف گوجرانوالہ میں
گوجرانوالہ کے پانچ حلقوں میں اصل مقابلہ نون اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہے
پنجاب کے شہرگوجرانوالہ اور گرد و نواح کے شہروں کے انتخابی دنگل میں سیاسی جماعتوں سے وابستگیوں کے علاوہ ڈبل شاہ سکینڈل، تشدد، لال مسجد، بےنظیر بھٹو کا قتل اور نواز شریف کے جلسے اہم کردار ادا کریں گے۔

مسلم لیگ کے ایک اہم رہنما حامد ناصر چٹھہ گوجرانوالہ کے نواحی علاقے وزیر آباد سے امیدوار ہیں لیکن ان کی مخالف عاصمہ شاہ نواز چیمہ اپنے انتخابی جلسوں میں ڈبل شاہ کا نام لے کر انہیں تنقید کانشانہ بنا رہی ہیں۔

سبط الحسن المروف ڈبل شاہ کو چند مہینے پہلے نیب نے گرفتار کیا تھا لیکن اس سے پہلے وہ وزیر آباد کے علاوہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سمبڑیال، ڈسکہ اور گجرات کے ہزاروں خاندانوں کو پیسے دگنے کرنے کا جھانسہ دیکر مبینہ طور پر اربوں روپے وصول کرچکا تھا۔

ڈبل شاہ کے بیشتر متاثرین کو تاحال ان کی رقوم واپس نہیں مل پائیں اور پیپلز پارٹی کی امیدوار عاصمہ شاہنواز کا کہنا ہے کہ ڈبل شاہ ساڑھے تین برس سے لوٹ رہا تھا حکومتی اراکین اسمبلی کی خاموشی معنی خیز ہے۔

حامد ناصر چٹھ کو انتخابی مہم کے دوران ڈبل شاہ کے متاثرین کو جواب دینا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں یا ان کے کسی رشتہ دار نے ڈبل شاہ سے پیسے ڈبل کرائے نہ اس کی گرفتاری تک انہیں اس کا علم ہوسکا تھا۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے رقم واپس ضرور دلوائیں گے۔

گوجرانوالہ شہر سے کامیاب ہونے والے ایم ایم اے امیدوار قاضی حمیداللہ اس بار بھی جے یو آئی کے امیدوار ہیں وہ خود کو’فاتحِ میراتھن‘ قرار دیتے ہیں اور اسی نعرے کے ہورڈنگز اور بینر لگے ہیں۔

ان کے دور میں میراتھن ریس پر حملہ ہوا اور پر تشدد واقعات ہوئے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پانچ سالہ دور میں ان کے کریڈٹ پر بس یہی ایک واقعہ ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اب اس سیٹ پر اصل مقابلہ نون اور پیپلز پارٹی کا ہے۔گوجرانوالہ کے حلقے پچانوے سے ننانوے تک مقابلہ نون اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہے۔

حامد ناصر چٹھہ گوجرانوالہ کے نواحی علاقے وزیر آباد سے امیدوار ہیں

سیاسی تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہمدردی کا ووٹ ملے گا اور ان کے وہ ووٹر بھی پولنگ سٹیشن تک جائیں گے جو پچھلے حالات میں شاید نہ جاتے۔

دوسری طرف مسلم لیگ نون کے کارکنوں اور ووٹروں کا حوصلہ میاں نواز شریف کو اپنے درمیان دیکھ کر بلند ہوا ہے اور ان کے ایک سے زائد جلسوں نے ہوا کا رخ ان کی جانب موڑا ہے۔

مسلم لیگ قاف کے ایک امیدوار چودھری عمران ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ انہیں لال مسجد آپریشن کے حوالے سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ لوگوں کو وضاحت کرتے ہیں کہ یہ معاملہ سیاسی کنٹرول میں نہیں تھا بلکہ وہاں صرف سکیورٹی فورسز کا فیصلہ چلا ہے۔

کامونکی سے رانا نذیر نے مسلم لیگ قاف کی ٹکٹ ٹھکرا کر مسلم لیگ نون کا ٹکٹ لیا ہے۔ رانا نذیر احمد مسلم لیگ قاف میں شامل رہے لیکن جمالی گروپ سے تعلق ہونے کی وجہ سے چودھری برداران کی زیادہ قربت حاصل نہ کرپائے تھے۔

نواحی علاقہ نوشہراں ورکاں ایک ایسا مقام ہے جسے الیکشن کمشن نے انتہائی حساس قرار دے رکھا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ گوجرانوالہ اور اردگرد کا پورا علاقہ جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ ہے۔

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے صحافی احتشام الدین شامی نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسے ووٹ دیتی ہے جو تھانے کچہری میں ان کے کام کروا سکے ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں انتخابات میں عام طور پر تشدد کے سب سے زیادہ واقعات بھی اسی علاقے میں پیش آتے ہیں۔

مہدی حسن بھٹی کے بھائی اور صاحبزادے ق لیگ کے امیدوار ہیں

اس علاقوں کا ہر اہم امیدوار اپنے ساتھ درجن بھر مسلح محافظ لیے پھرتا ہے اور یہ پاکستان کا شاید واحد ضلع ہے جس کی پولیس نے تمام امیدواروں کو تین تین گن مین فراہم کیے اور درخواست یہ کی گئی ہے کہ وہ اپنے کلاشنکوف بردار گن مینوں کو ہٹا دیں۔

نوشہراں ورکاں سے انسپکٹر جنرل پولیس ضیاء الحسن کے صاحبزادے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ قاف کا ٹکٹ لینے سے انکار کر دیا تھا اور جب یہ معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی ان کی حمایتی ہے تو کچھ عرصے بعد ضیاءالحسن کو آئی جی سندھ کے عہدے سے تبدیل کر دیا گیا۔

حافظ آباد میں مہدی حسن بھٹی کے صاحبزاد ےاور بھائی قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں سے مسلم لیگ قاف کے امیدوار ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ان کی سیاسی پوزیشن اتنی مستحکم نہیں ہے لیکن اگر پولنگ ڈے پر انہیں ہار ہوتی نظر آئی تو امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔حافظ آباد کی ایک نشست پر سابق صدر رفیق تارڑ کی بہو مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر امیدوار ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰناب ووٹ نہیں دیں گے
وزیر، محسود قبائل کے مولانا سےگلے شکوے
مائیکل گہلرغیر ملکی مبصرین
’ابتدائی رپورٹ الیکشن کے دو دن بعد دیں گے‘
احتجاجالیکشن 2008
انتخابی دھاندلی کی تاریخ اور طریقہ کار
شیخ رشید احمدسہمے سہمے ووٹر
راولپنڈی کے ووٹر گھروں سے نکلنے سےانکاری
لال مسجد (فائل فوٹو)ووٹر بُھولے نہیں
’لال مسجد کی یاد ووٹروں کے ذہن میں تازہ ہے‘
جاوید ہاشمیسہ رخی انتخابی جنگ
شاہ محمود، ہاشمی اور رائے کے درمیان معرکہ
الیکشن 2008
جنوبی پنجاب میں حسب نسب آج بھی اہم کیوں؟
اسی بارے میں
فیصل آباد: پی پی اور ن میں جنگ
15 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد