BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 14 February, 2008 - Published 21:49 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لال مسجد آپریشن، ووٹر ابھی بھُولے نہیں

مشتعل عوام(فائل فوٹو)
لال مسجد آپریشن کا واقعہ عوام کے ذہنوں میں ابھی تازہ ہے
لال مسجد کے فوجی آپریشن کو تو سات ماہ گزر چکے ہیں لیکن اس کا ’آسیب‘ پاکستان کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی حمایت یافتہ جماعت مسلم لیگ ق کا اب بھی پیچھا نہیں چھوڑ رہا اور اس جماعت کے کئی امیدواروں کو انتخابی مہم کے دوران اس معاملے پر ووٹروں کی طرف سے سوالات کا سامنا ہے۔

ویسے تو پاکستان میں اجتماعی یاداشت خاصی کمزور ہے لیکن بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں لال مسجد کا آپریشن ابھی بھی تازہ ہے۔

اٹھارہ فروری کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ق کے امیدواروں کو ووٹروں کی طرف سے لال مسجد فوجی آپریشن کے دوران سو سے زیادہ طلبا اور طالبات کی ہلاکت کے بارے میں سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

راولپنڈی کے ایک ووٹر مسلم لیگ ق کے امیدوار سابق وزیر ریلوے شیخ رشید کے خلاف اپنے غصے کا اظہار ہوتے کہا کہ’شیخ رشید کو اس وقت اپنی وزارت سے مستعفی ہونا چاہیے تھا جب لال مسجد کے آپریشن میں معصوم بچوں اور بچیوں کو ہلاک کیا گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ’اگر انہوں نے استعفیٰ دیا ہوتا تو وہ لوگوں سے ووٹ مانگنے کا حق بھی رکھتے تھے اور لوگ ان کے ساتھ چلتے بھی لیکن اب ہم ان کی حمایت نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کو ووٹ دیں گے‘۔

سابق وزیر شیخ رشید مانتے ہیں کہ لوگ ان کی حکومت کی طرف سے امریکہ کی پالسیوں کی حمایت کرنے پر اختلاف رکھتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کے باوجود انتخاب جیت جائیں گے۔

 شیخ رشید کو اس وقت اپنی وزارت سے مستعفی ہونا چاہیے تھا جب لال مسجد کے آپریشن میں معصوم بچوں اور بچیوں کو ہلاک کیا گیا۔اگر انہوں نے استعفیٰ دیا ہوتا تو وہ لوگوں سے ووٹ مانگنے کا حق بھی رکھتے تھے اور لوگ ان کے ساتھ چلتے بھی لیکن اب ہم ان کی حمایت نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کو ووٹ دیں گے
راولپنڈی کے ووٹر

عین اس وقت جب انتخابات سر پر ہیں مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے اڈیالہ جیل میں قید لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے ساتھ چند دن پہلے اچانک ملاقات کی۔

لال مسجد کے ترجمان عامر صدیق نے کہا کہ چوہدری شجاعت کی ملاقات کا بنیادی مقصد مولانا کی مزاج پرسی کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ’ چوہدری شجاعت نے اس ملاقات میں مولانا سے کہا اگر وہ اقتدار میں آئے تو وہ ان کی رہائی کے لئے کوششیں کریں گے‘۔

انہوں نے کہا انہوں نے کہا کہ ’چوہدری شجاعت نے ایسی مرحلے میں ملاقات کی جب انتخابات ہو رہے ہیں تو اس کے امکانات موجود ہیں کہ ہو سکتا ہے یہ ان کی سیاسی طور پر اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوشش ہو‘۔

تاہم عامر صدیق کا کہنا ہے کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ ’یہ ان کی سنجیدہ کوشش ہو اور وہ اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ لال مسجد کے واقعہ کے وقت جب وہ برسراقتدار تھے تو اس وقت بھی انہوں نے اپنا کردار ادا نہیں کیا اور اب کم از کم ان کو مولانا کی رہائی اور دیگر معاملات کو حل کرانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہیئیں‘۔

ماضی قریب میں پاکستان کو لال مسجد آپریشن کے ساتھ ساتھ عدلیہ کا بحران اور مہنگائی کے مسائل کا سامنا رہا ہے اور اب دکھائی یوں دیتا ہے کہ ان مسائل کا انتخابی ملبہ سابق حکمران جماعت پر گر رہا ہے۔

اسی بارے میں
مشرف مخالف ہی نشانہ کیوں؟
13 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد