’مشرف خطرہ ہیں، استعفیٰ دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افواج پاکستان کے سابق سپاہیوں سے لے کر جرنیلیوں نے صدر جنرل (ریٹائرڈ) مشرف کے مزید اقتدار میں رہنے کو ملک کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے ان سے جلد از جلد مستعفی ہونے کے بعد اقتدار برطرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم کے اجلاس میں جسٹس رانا بھگوان داس کو نیا چیف الیکشن کمشنر تعینات کرنے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظر بندی ختم کرنے یا پھر انہیں عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ صدر مشرف کو ’تضحیک آمیز‘ قرار دیتے ہوئے ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم نے صدر مشرف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا اپنا مطالبہ دوہرایا۔ ان کا موقف تھا کہ صدر کے مزید اقتدار میں رہنے سے ملک کو مزید نقصان ہوگا۔
تقریب کے سیکرٹری بریگیڈئر محمود قاضی نے ابتداء میں واضح کر دیا کہ اس اجلاس میں ماضی پر بات نہیں ہوگی’ کیونکہ ہر کسی نےغلطیاں کی ہیں چاہے وہ فوجی ہوں، عدلیہ ہو یا صحافی‘۔ انہوں نے کہا انہیں صرف حال اور مستقبل کی فکر کرنی ہے۔ ائر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی صدارت میں اجلاس کے آغاز پر سابق فوجی سربراہ جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ نے اپنے دو اہم مقاصد فوج امیج کی بہتری اور ملک میں جمہوریت کو مضبوط دینا قرار دیا۔ انہوں نے صدر کو انصاف کے دشمن، لال مسجد میں خون ناحق کے مرتکب، ایک ایسا شخص قرار دیا جس کا دماغ ماؤف ہوچکا ہے اور جو اپنے خاندان یعنی سابق فوجیوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے۔ سابق فوجیوں نےعوام کو اٹھارہ فروری تک انتظار کرنے کے لیے کہا جب ان کے مطابق انہیں اچھی خبر سنے کو ملےگی۔ ایک سابق کپتان ظہیر الدین نے صدر کی پالیسیوں پر اپنا غصہ نکالتے ہوئے اپنے سابق سینئرز کے سامنے چوڑیاں رکھ کر کہا کہ قرار دادوں اور تقریروں سے کچھ نہیں ہوگا اور انہیں باہر نکل کر وکلاء اور صحافیوں کا ساتھ دینا ہوگا۔ ایک سابق فوجی نےاپنی تقریر میں کہا کہ جنرل مشرف اب ان کی طرح سابق فوجی ہیں اور انہیں ان کے فلاح کی فکر ہے اس لیے وہ ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اقتدار باعزت چھوڑ دیں۔ سابق فوجیوں نے پانچ فروری کو وکلاء اور صحافیوں کے احتجاج میں شمولیت کا بھی اعلان کیا۔
اجلاس کے سب سے عمر رسیدہ مقرر نواسی سالہ جنرل مجید ملک تھے جنہوں نے اپنی تقریر میں خدشے کا اظہار کیا کہ معلق پارلیمان کے بنے کی صورت میں صدر کہ پاس حربے موجود ہیں اور وہ اپنے آپ کو مضبوط کر لیں گے۔ تاہم تین گھنٹوں کی دھواں دھار تقاریر کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے کمیٹی کی تشکیل کے لیے جب ناموں کا اعلان کیا جانے لگا تو ہال میں موجود سابق فوجیوں نے سابق وفاقی وزیر جنرل مجید ملک کو کمیٹی کا رکن نہیں بنے دیا۔ جذباتی تقاریر میں سرکاری اعزازات واپس کرنے، صدر کی تقریبات اور اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بائیکاٹ، فور سٹار جرنیلوں کے ایک وفد کو صدر کے پاس بھیجنے اور پینشن بُکس لوٹانے کی تجویزیں سامنے آئیں تاہم کمیٹی نے بات صرف مطالبات کی حد تک محدود رکھی۔ اجلاس میں ’ایکس سروس مین سوسائٹی‘ کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) فیض علی چشتی، ایڈمرل محمد شریف، جنرل شفیق احمد، لیفٹینٹ جنرل حمید گل، جنرل جمشید، ونگ کمانڈر زرین قریشی، فلائیٹ لیفٹینٹ حمید ستی اور برگیڈیر محمود قاضی پیش پیش تھے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹنٹ جنرل اسد درانی بھی اجلاس میں موجود تھے۔ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ویسے تو کئی سیاسی محاذوں پر بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اب سابق فوجیوں سے بھی ان کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ صدر مشرف نے اپنے چند سابق ساتھیوں سمیت سابق جرنیلوں کے مطالبہ پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ یہ بیکار لوگ ہیں جنہیں انہوں نے نوکریاں نہیں دیں۔ | اسی بارے میں ’مشرف ہمیں کیا فائدہ دے سکتا تھا‘25 January, 2008 | پاکستان لندن میں مشرف مخالف مظاہرہ26 January, 2008 | پاکستان ’مشرف نے ادارے تباہ کر دیے‘30 January, 2008 | پاکستان استعفے جنرل مشرف کو روک سکیں گے؟03 October, 2007 | پاکستان ’فوجی سیاستدانوں سے نہ ملیں‘18 January, 2008 | پاکستان مشرف کو تلاش عالمی ہمدردی کی22 January, 2008 | پاکستان مشرف کا دورۂ یورپ، احتجاج کا سامنا21 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||