BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 January, 2008, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کو تلاش عالمی ہمدردی کی

صدر مشرف
یورپی ممالک کے دورے پر مشرف اپنے آپ کو ایک سنجیدہ بروکر کے طور پر پیش کریں گے۔
پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کا یورپی ممالک کا دورہ کئی ماہ قبل تیار ہوا تھا جب ملک کی سیاسی صورتحال کافی مختلف تھی۔

اب تک پاکستان میں انتخابات ہو چکے ہوتے۔ اگر بینظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو ممکنہ طور پر شراکت اقتدار کی ڈیل کے تحت وہ ملک کی نئی وزیر اعظم ہوتیں، جو کہ عجیب ہوتا لیکن تھوڑے عرصے کے لیے درست۔

لیکن اب صدر مشرف کی گرفت کمزور ہو گئی ہے۔ یورپی ممالک کے دورے پر مشرف اپنے آپ کو ایک ایماندار معالات کار کے طور پر پیش کریں گے۔

ان کی کوشش ہو گی کہ وہ یورپ کو قائل کریں کہ وہ جو وعدے کرتے ہیں ان کو نبھائیں گے اور فروری میں ہونے والے انتخابات صاف اور شفاف ہوں گے۔

وہ اس بات پر بھی قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ ان کی اولین ترجیح پاکستان کا جمہوریت کی طرف سفر ہے۔ وہ اس بات کو بھی باور کرائیں گے کہ اگر انتخابات کے بعد ملک میں بد امنی پیدا ہوتی ہے تو صرف وہ ملک میں امن و امان برقرار رکھ سکتے ہیں۔

تاہم یہ نہیں معلوم کے یورپی رہنماء صدر مشرف کی ان یقین دہانیوں پر کتنا اعتبار کرتے ہیں۔ اگرچہ یورپی یونین اگلے ماہ انتخابات کے لیے نگران ٹیم بھیج رہی ہے یورپ پاکستان میں میں غیر جانبدار اور شفاف انتخابات پر مستند تحفظات رکھتا ہے۔

ایک تشویش انتخابات والے دن ہونے والی دھاندلی کے متعلق ہے۔ نگران ٹیمیں دھاندلی، بیلٹ باکس میں جعلی ووٹوں اور زورِ بازو پر ووٹ لینے کو دیکھیں گی۔ یہ ٹیمیں مجموعی صورتحال پر بھی رپورٹ لکھیں گی جیسے کہ عدلیہ۔

واضح رہے کہ اعلٰی عدالتوں کے ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا اور حکومت نے ان کو معزول کر دیا۔

صدر مشرف کے یورپی ممالک کے دورے پر روانگی پر نجی ٹی وی چینل جیو پر عائد پابندیاں نرم کردی گئیں۔ اس قدم کو مثبت دیکھا جائے گا لیکن میڈیا کو ابھی بھی پابندیوں کا سامنا ہے، نہ تو الیکشن کمیشن اور نہ ہی نگران حکومت غیر جانبدار سمجھی جاتی ہے۔

اس ملکی صورتحال کے مدِ نظر مشرف کو بیرون ملک دوستوں کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ پر سخت تنقید کی گئی اور ان کو فوج کے سربراہ کا عہدہ چھوڑنا پڑا ہے۔

فوج کے نئے سربراہ جنرل (اشفاق پرویز) کیانی کی وفاداریوں کا ابھی اندازہ نہیں ہے، لیکن شائد عوامی دباؤ میں وہ فوج کا سیاست میں کردار ختم کر دیں۔

 میڈیا کو ابھی بھی پابندیوں کا سامنا ہے اور نہ تو الیکشن کمیشن اور نہ ہی نگران حکومت غیر جانبدار سمجھی جاتی ہے۔

دوسری طرف بینظیر کی ہلاکت کے بعد ان کے خاندان کے لیے ہمدردی بڑھ رہی ہے اور ان کی ہلاکت کی ذمہ داری کو لے کر بھی کافی خدشات ہیں۔

تاہم صدر مشرف اس وقت انتخابات کے فوری بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو اہمیت دے رہے ہیں۔

اخباری جریدوں کے مدیران کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی طرف کا سفر اُن تین مشکلات میں سے ایک ہے جس کا پاکستان کو سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند سیاسی جماعتیں انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کریں گی اور دھاندلی کی آواز بلند کریں گی۔ لیکن وہ اس لیے شور کریں گی کیونکہ ان کو کم سیٹیں ملیں گی۔

لیکن صدر مشرف شاید ایسے بیانات کے ذریعے پاکستان کو انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے لیے تیار کر رہے ہیں۔

یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں جہاں سیاسی جماعتیں میں لڑائی جھگڑے ہو رہے ہونگے، وہاں صدر مشرف بھی اپنی پوزیشن کو مستحکم کرتے نظر آئیں گے۔

ایسی صورتحال میں صدر مشرف کو بین الاقوامی ہمدردیوں کی ضرورت ہو گی۔

اخبارات’بینظیر بھٹو شہید‘
بینظیر کو اخبارات کا بعد از موت خراج عقیدت
اے دلِ خوش فہم
جرنیل، حزب اقتدار و حزب مخالف، بدلا کچھ نہ
انتخابی سرگرمیاں؟
انتخابی سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں
الیکشن باکسانتخاب پر خدشات
اٹھارہ فروری انتخابات، خدشات برقرار
مشرفجنرل مشرف نے کہا
جانا ضروری لگا تو چلا جاؤں گا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد