’فوجی سیاستدانوں سے نہ ملیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے فوجی افسران کی سیاستدانوں سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ جنرل کیانی نے فی الحال سول اداروں میں تعینات فوجی افسران کو فوری طور پر واپس بلانے کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض مقامی اخبارات میں اپنے ذرائع کے حوالے سے پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے منسوب جو بیان شائع ہوا ہے وہ درست ہے۔ تاہم سول اداروں میں تعینات فوجی افسران کی واپسی کے بارے میں آرمی چیف سے منسوب بیان کی تردید کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ’سول عہدوں پر تعینات فوجی افسران کو واپس بلانے کا کوئی بیان آرمی چیف یا فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ سے جاری نہیں ہوا‘۔ سویلین عہدوں سے حاضر سروس فوجیوں کو واپس بلانے کے بارے میں فوجی ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں اصولی فیصلہ تو ہوا ہے کہ اس پالیسی پر نظر ثانی کی جائے گی لیکن اس پر عمل درآمد کے بارے میں ابھی کوئی پالیسی واضح نہیں۔ سویلین محکموں میں تعینات فوجی افسران کی تعداد کے بارے میں فوجی ترجمان نے لاعلمی ظاہر کی لیکن اس بارے میں گزشتہ برس مئی میں حکومت نے پارلیمان میں پیش کرہ معلومات میں بتایا تھا کہ صدر مشرف کے دور میں سینئر سویلین عہدوں پر 285 فوجی افسران تعینات کیے گئے۔ صدر پرویز مشرف کے دور میں اکتیس ریٹائرڈ فوجی افسران کو مختلف ممالک میں سفیر بھی مقرر کیا گیا جبکہ دیگر سول اداروں میں زیادہ تر فوجیوں کو کارپوریشنز اور نیم خود مختار اداروں کے پرکشش عہدوں پر تعینات کیا گیا۔حکام کے مطابق حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران کے لیے سول ملازمتوں میں قانونی طور پر دس دس فیصد کوٹہ بھی مختص ہے۔ سیاستدانوں سے دور رہنے اور سویلین عہدوں پر تعینات فوجی افسران کی واپسی کے بارے میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے مبینہ بیان کو حزب مخالف کے سیاسی حلقوں میں کافی پذیرائی ملی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ’فوجی افسران کو سیاست دانوں سے ملنے پر پابندی اور سویلین عہدوں سے فوجی افسران کی واپسی کے بارے میں آرمی چیف کے بیانات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم تو پہلے دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ فوج کے سیاسی معاملات میں مداخلت کی وجہ سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت متاثر ہوتی ہے‘۔ احسن اقبال نے کہا کہ حمود الرحمٰن کمیشن کے رپورٹ میں لکھا ہے کہ انیس سو اکہتر کی جنگ میں شکست کی ایک بڑی وجہ فوج کے سیاسی معاملات میں مداخلت تھی۔ یاد رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ برس کے آخر میں فوجی کمان جنرل کیانی کے حوالے کرتے وقت ان سیاستدانوں کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی ترقی میں ہر رکاوٹ کو فوج کو ٹھوکر مارکر آگے بڑھنا چاہیے لیکن موجودہ آرمی چیف جنرل کیانی کا فوجی افسران کو سیاسی رہنماوں سے دور رہنے کا حکم بظاہر صدر مشرف کے موقف کی نفی کرتا ہے۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ فوجی افسران کو سیاسی معاملات سے دور رہنے کے جنرل کیانی کے بیان سے اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کی ساکھ بہتر ہوسکتی ہے لیکن آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کی رائے ان سے مختلف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے آرمی چیف کے یہ بیانات کافی نہیں۔ ان کے مطابق جہاں الیکشن کمیشن کمزور ہو اور نگران حکومت فریق ہو وہاں انتخابات شفاف نہیں ہوسکتے۔ | اسی بارے میں پریشانی کی کوئی وجہ نہیں: مشرف18 January, 2008 | پاکستان پاکستان: ’منصفانہ الیکشن کے آثار کم‘17 January, 2008 | پاکستان ’ISI کی مداخلت بند کرائیں‘04 January, 2008 | پاکستان خطرات سے بچاؤ کا حل’قومی کوشش‘03 January, 2008 | پاکستان ’فوج استعفٰی دینے پر مجبور کرے‘03 January, 2008 | پاکستان ’امداد بند کرنی ہے تو کوئی اور حلیف ڈھونڈیں‘12 January, 2008 | پاکستان ’جنرل کیانی تین نومبر کی عدلیہ بحال کر سکتے ہیں‘20 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||