BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 January, 2008, 00:55 GMT 05:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امداد بند کرنی ہے تو کوئی اور حلیف ڈھونڈیں‘
 مشرف
پاکستان کسی طرح بھی انتشار کا شکار نہیں ہے:مشرف
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ پاکستان کی مزید امداد نہیں کرنا چاہتا تو اسے مدد کے لیے دوسرا حلیف تلاش کرنا ہو گا۔

فرانسیسی اخبار’لی فگارو‘ کو انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے دہشتگردی کے خلاف جنگ پر اثر پڑے گا۔

صدر مشرف کا کہنا تھا کہ’ گزشتہ چھ برس کے دوران ہمیں(امریکہ کی جانب سے) کل نو ارب ڈالر کے قریب ملے ہیں جن میں سے نصف سے زائد دہشتگردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے دیے گئے ہیں۔ اگر امریکی مزید امداد نہیں کرنا چاہتے تو انہیں دوسرا حلیف تلاش کرنا ہوں گا لیکن خیال رہے کہ اس سے دہشتگردی کے خلاف جنگ متاثر ہو گی‘۔

 ایسا ممکن نہیں ہے۔ کیا اس(بے نظیرکا قتل) میں کوئی دیگر ملک ملوث ہے؟ پاکستان لبنان ہیں ہے۔ یہ قتل کا ایک سادہ مقدمہ ہے اور ہمارے اپنے ادارے ہیں اور ہم سکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔

صدر مشرف کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت امریکی امداد کے بغیر بھی اپنے پیروں پر کھڑی رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر امداد نہ ملی تو پاکستان ختم ہو جائے گا؟ ہمارے معاشی حالات اب بہتر ہیں‘۔

پاکستان میں خودکش حملوں کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے خلاف القاعدہ کی مہم ہے تاہم’ ان کے پاس اتنی قوت نہیں کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم کر سکیں۔ ان کے خود کش حملوں سے عوام کی دل شکنی ہوتی ہے اور ملک میں بے چینی پھیلتی ہے لیکن پاکستان کسی طرح بھی انتشار کا شکار نہیں ہے‘۔

ادھر امریکی فوج کے اعلٰی افسر ایڈمرل مائیکل ملن نے کہا ہے کہ القاعدہ کا پاکستان کے قبائلی علاقوں کو محفوظ پناہ گاہ کےطور پر استعمال ’باعثِ تشویش‘ ہے لیکن اس سے نمٹنا پاکستان کا ہی کام ہے۔

 گزشتہ چھ برس کے دوران ہمیں(امریکہ کی جانب سے) کل نو ارب ڈالر کے قریب ملے ہیں جن میں سے نصف سے زائد دہشتگردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے دیے گئے ہیں۔ اگر امریکی مزید امداد نہیں کرنا چاہتے تو انہیں دوسرا حلیف تلاش کرنا ہوں گا لیکن خیال رہے کہ اس سے دہشتگردی کے خلاف جنگ متاثر ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ’ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور یقینی طور پر یہ صدر مشرف ان کے مشیروں اور ان کی فوج کا ہی کام ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹے‘۔

یاد رہے کہ پاکستانی صدر نے جمعرات کو سنگا پور کے ایک روزنامے کو انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستانی علاقوں میں انتہاپسندوں کے خلاف اتحادی افواج کی کارروائی پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہوگی اور اسے ملکی سالمیت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ یہاں اس وقت تک کوئی نہیں آئے گا جب تک ہم انہیں آنے کو نہیں کہیں گے اور ہم نے انہیں ایسا کچھ نہیں کہا ہے‘۔

اسی بارے میں
’امریکی امداد دفاع پر خرچ‘
24 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد