حکومت استعفیٰ دے، حزب اختلاف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور بم دھماکے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں نے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چند عناصر ملک میں امن وامان کی صورتحال کو خراب کرکے انتخابات سے فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ آصف زرداری نے لوگوں سے کہا کہ وہ ایسے سازشی عناصر سے خبردار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر حکومت ایک سرکٹی لاش پیش کردے گی اور اس واقعہ کی ذمہ داری کسی نامعلوم دہشت گرد پر ڈال دے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایک کمیشن تشکیل دیا جائے جو اس بات کا پتہ چلائے کہ ان حملوں کے لیے فنڈز کون مہیا کراتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں نے پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے بجائے اسے دہشتگردی اور خودکش حملوں کا مرکز بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک انتہائی سنگین بحران سے دوچار ہے جس میں سابق وزیر اعظم سے لیکر عام شہری بھی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ دہشتگردی اور خودکش حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات ملکی معیشت ، سیاست اور معاشرے پر انتہائی منفی اثرات مرتب کررہے ہیں جبکہ حکمران خاموش تماشائی بنکر ان حالات کو بگڑتا ہوا دیکھ رہے ہیں تاکہ دہشت گردی کے نام پر وہ اپنے اقتدار کو طول دے سکیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف کو اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہوجاناچاہیے اور اپوزیشن کے تعاون سے ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے جو کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ کر سکے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ صدر مشرف کی آٹھ سالہ آمریت نے پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے اور پاکستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ بیرونی طاقتیں پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کی سوچ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر نےکہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دہشت گردی کا نشانہ وکلاء برادری کا جلوس تھا جو کہ کچھ تاخیرسے وہاں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حملے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے ردعمل کا نتیجہ ہیں جس میں سینکڑوں بے گناہ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن نے کہا کہ اس صورتحال میں فوری طور پر سویلین حکومت یا قومی حکومت تشکیل دی جائے۔ |
اسی بارے میں ’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘19 October, 2007 | پاکستان پاکستان: خودکش حملوں کی تاریخ09 November, 2007 | پاکستان چار ماہ میں آٹھ خودکش حملے28 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||