BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 January, 2008, 15:57 GMT 20:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن میں مشرف مخالف مظاہرہ

لندن میں مشرف مخالف مظاہرہ
مظاہروں میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد شامل ہو رہی ہے
برطانیہ میں پاکستانی وکلاء کی تنظیم ’یوکے لائرز کمیٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس ان پاکستان‘ نے صدر مشرف کی پاکستان کے ایک سنیئر صحافی کے ساتھ تلخ کلامی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صحافیوں کے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

تنظیم کے ایک سرکردہ رہنما اور سینئر وکیل ضبغت اللہ قادری نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم اس واقعے کے خلاف باقاعدہ طور پر حکومت برطانیہ کو ایک تحریری درخواست دے گی۔


انہوں نے کہا کہ وہ برطانیہ میں صحافیوں کی تنظیموں سے بھی اس سلسلے میں بات کریں گے۔ اس سلسلے میں ان کی تنظیم کے وکلاء کا اجلاس اتوار کو ہورہا ہے جس میں آئندہ حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔

ضبغت اللہ قادری نے کہا کہ صدر مشرف کے روزنامہ ڈان کے لندن میں نمائندے ضیاء الدین کے خلاف کلمات انتہائی قابل اعتراض ہیں اور یہ لندن میں مقیم پاکستانیوں کو آپس میں لڑانے کے مترادف ہے۔

صدر مشرف کے دورۂ برطانیہ شروع ہونے کے بعد سے لندن میں پاکستانیوں، انسانی حقوق اور وکلاء کی تنظیموں کی طرف سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ سنیچر کو اس سلسلے میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور برطانوی وکلاء نے برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کی سرکاری رہائش گاہ ٹین ڈاؤنگ اسٹریٹ کے باہر مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے صدر مشرف کے خلاف شدید نعرے بازی کی

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے تقریباً دو درجن وکلا ء اور کارکنوں نے اس مظاہرے میں پاکستان میں عدلیہ کی بحالی، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن، معذول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور پریس کی آزادی کے لیے نعرے لگائے۔

ان مظاہروں کے بارے میں ضبغت اللہ قادری نے کہا کہ اب برطانیہ میں سول سوسائٹی، وکلاء، بار کونسل کی انسانی حقوق کی کمیٹی، لاء سوسائٹی اور دیگر ادارے شامل ہو رہے ہیں جو کہ خاصے بااثر ادارے ہیں اور ان کی شمولیت کا اثر حکومت برطانیہ پر یقیناً پڑے گا۔

ان اداروں کی طرف سے آواز اٹھائے جانے پر حکومت لازمی طور پر نوٹس لے گی اور پارلیمنٹ میں بھی ان پر بات ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی وزیر اعظم کو جواب دینا پڑے گا کہ وہ پاکستان میں قانون کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ مظاہرے مشرف کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد حکومت برطانیہ کو یہ باور کرنا ہے کہ صدر مشرف کی حمایت نہ کی جائے بلکہ پاکستان عوام کی حمایت کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان مظاہروں کا سلسلہ صدر مشرف کے چلے جانے کے بعد بھی جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت برطانیہ اور مغربی دنیا کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہے تو عوام کو ساتھ لے کر چلانا ہو گا اور پاکستانی عوام کو ساتھ لے کر چلنے ہی سے اس جنگ کے مطلوبہ نتائج حاصل کیئے جا سکتے ہیں۔

برطانیہ میں انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں، وکلاء اور پاکستانی برادری کے ارکان پیر کے دن صدر مشرف کے خلاف وزیر اعظم گورڈن براؤن کی سرکاری رہائش کے باہر مظاہرے کر رہے ہیں۔ صدر مشرف پیر کو وزیر اعظم گورڈن براؤن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

اسی بارے میں
صدر مشرف صحافی پر برس پڑے
25 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد