BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 January, 2008, 15:37 GMT 20:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دو تین ٹِکا دیں تو اچھا ہے‘
صدر مشرف
’ آپ مجھے سرٹیفیکیٹ دیں تو میں اس پر دستخط کر دیتا ہوں‘
جمعے کی شام اپنے یورپی ممالک کے دورے کے دوران لندن میں صدر جنرل پرویز مشرف ایک سینئر پاکستانی صحافی کے سوال کو دیر تک نہیں بھولے اور اس کی بازگشت ان کی اس تقریر میں بھی سنائی دی جو انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ملاقات میں کی۔

پاکستان کو ’بدنام کرنے والے عناصر‘ کے خلاف صدر مشرف کی برہمی اتنی شدید تھی کہ ہلکی پھلکی گفتگو میں غصے نے ان کا دامن نہ چھوڑا اور انہوں نے اس قسم کے لوگوں کی ’پٹائی‘ کے ترغیب بھی دے ڈالی۔


پاکستانی کمیونٹی کے لیے یہ تقریب لندن کے ہلٹن ہوٹل میں ہوئی اور اس میں آٹھ سو سے زیادہ لوگ آئے ہوئے تھے۔ سکیورٹی کا انتہائی سخت انتظام تھا اور پولیس نے ہال کے باہر سکینرز اور میٹل گیٹ لگائے ہوئے تھے۔

جنرل مشرف نے کمیونٹی سے اپنی تقریر میں اس پر زور دیا کہ پاکستان میں حالات اتنے برے نہیں ہیں جیسے کہ میڈیا پر دکھائے جا رہا ہے۔

تقریر کے دوران انہوں نے ان صحافیوں پر سخت تنقید کی جو بقول ان کے پاکستان کو بدنام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تقریب میں آنے سے کچھ دیر پہلے دفاعی امور کے ایک تھنک ٹینک ’رائل یونائٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ‘ میں تھے جہاں پر ایک پاکستانی صحافی نے اسی طرح کی حرکت کی تھی۔

انہوں نے مذکورہ صحافی کا نام تو نہ لیا لیکن ان کا اشارہ واضح طور پر پاکستانی روزنامہ ڈان کے نامہ نگار ایم ضیاءالدین کی طرف تھا جنہوں نے تھنک ٹینک سے ان کے خطاب کے بعد صدر مشرف سے برطانیہ میں دہشتگردی کے مطلوب ملزم راشد راؤف کے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں سے فرار ہونے کے بارے میں ایک سوال پوچھا تھا۔

پاکستان کا میج خراب
 مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس قسم کے لوگ ہمارے پاکستانی ہیں جو اپنی ہی کچھ پروموشن کے لیے یا اپنی سیاست چمکانے کے لیے، اپنی جو بھی پولیٹیکل سپورٹ ہے یا جو بھی ذہن میں کوئی بات ہے اس کو پروموٹ کرنے کے لیے وہ فکر نہیں کرتے پاکستان کا میج خراب ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کو ضرور روکیں، ہدایت دیں اور اگر انہیں دو تین ٹکا دیں تو اچھا ہے

اس حوالے سے صدر پرویز مشرف پاکستانی کمیونٹی سے کہا: ’ یہاں کس قسم کے پاکستانی ہیں، ہمیں دشمن کیا کہیں، یہ تو بیٹھے ہی ہیں یہاں۔ان کو روکنا چاہیے۔ بڑے افسوس سے مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس قسم کے لوگ ہمارے پاکستانی ہیں جو اپنی ہی کچھ پروموشن کے لیے یا اپنی سیاست چمکانے کے لیے، اپنی جو بھی پولیٹیکل سپورٹ ہے یا جو بھی ذہن میں کوئی بات ہے اس کو پروموٹ کرنے کے لیے وہ فکر نہیں کرتے پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے۔ یہ افوسناک بات ہے۔ میں آپ سے یہ کہوں گا کہ ایسے لوگوں کو ضرور روکیں، ہدایت دیں اور اگر انہیں دو تین ٹکا دیں تو اچھا ہے۔‘

جمعہ کی شام تھنک ٹینک میں صدر مشرف کے خطاب کے بعد صحافیوں کے سوال و جواب کے دوران صدر پرویز مشرف پہلے تو اس وقت چِڑ گئے جب سکائی ٹی وی کے نمائندے نے ان سے پوچھا کہ کہ کیا انتخابات واقعی منصفانہ ہوں گے؟ صدر مشرف کا جواب تھا: ’ آپ مجھے سرٹیفیکیٹ دیں تو میں اس پر دستخط کر دیتا ہوں۔‘

اس کے بعد جب ایم ضیاء الدین نے ان سے پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے حوالے سے سوال کیا تو صدر مشرف شدید برہم ہوگئے۔ جب ضیاء الدین نے پوچھا کہ جب راشد رؤف جیسا ایک مشتبہ ’ہائی پروفائل‘ شدت پسند جو کہ برطانوی شہری تھا اور برطانیہ مطالبہ کر رہا تھا کہ اسے اس کے حوالے کیا جائے وہ دن دہاڑے بھاگ جاتا ہے تو لوگ یہ شک کرتے ہیں کہ پاکستان میں یہ اہلیت نہیں ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو بچا لے گا تو صدر مشرف نے سینیئر صحافی کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا : یہ آپ جیسے لوگ ہی ہیں جو افواہیں پھیلاتے ہیں۔ اور پھر غیر ملکی ذرائع ابلاغ آپ کی افواہوں کو پکڑ لیتے ہیں۔ آپ خفیہ اداروں پر الزامات لگا کر افواہیں پھیلا رہے ہیں۔‘

اس بارے میں جب صدر جنرل پرویز مشرف کے ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی سے پوچھا گیا تو انہوں نے صدر کے رویے کا دفاع کیا اور کہا کہ مذکورہ صحافی نے واقعی پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ رویہ صدر مشرف کے عہدے کے شایان شان تھا تو انہوں نے اس کی کوئی وضاحت نہ کی۔

پاکستان کمیونٹی سے صدر مشرف نے تقریر اپنے مخصوص انداز میں کی اور لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ وہ ان سے بالکل کھل کر بات کر رہے ہیں اور وہ انہیں سچی بات سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔ تقریب میں آئے ہوئے بیشتر لوگ ان کی تقریر سے بہت مطمئن اور محظوظ دکھائی دیے۔

ہال میں آگے بیٹھے مسلم لیگ قاف کے چھ سات نوجوانوں نےوقتاً فوقتاً ان کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ جب پاکستانی ہائی کمیشن کے منتظمین سے پوچھا گیا کہ کیا ایسی تقریب میں اس طرح کے نعروں کی اجازت دینا مناسب تھا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دینا چاہا اور ان نوجوانوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد