انتخابات منصفانہ ہوں: یورپی اتحاد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی اتحاد کے پالیسی چیف ہاویر سولانا نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے کہا ہے کہ پاکستان میں اگلے ماہ ہونے والے انتخابات ہر حال میں ’آزادانہ اور منصفانہ‘ ہونے چاہئیں۔ مسٹر سولانا کے مطابق مستقبل میں پاکستان کے ساتھ یورپی اتحاد کے تعلقات کی سطح کا انحصار ان معیارات (کہ الیکشن کتنے آزادانہ اور منصفانہ تھے) پر ہوگا۔ یورپی اتحاد کے پالیسی چیف نے یورپ کے آٹھ روزہ دورے پر آئے ہوئے پاکستانی صدر سے ملاقات کی جس میں پاکستانی انتخابات اور دہشتگردی سے نمٹنے جیسے معاملات ایجنڈے پر ہیں۔ یورپی اتحاد پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے جس کا سالانہ تجارتی حجم نو بلین ڈالر سالانہ ہے۔ ہاویر سولانا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ یورپی اتحاد کے مستقبل کے تعاون کا انحار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان میں انتخابات کتنے منصفانہ ہوتے ہیں۔ تاہم نامہ نگار کہتے ہیں کہ یورپی اتحاد کے پالیسی چیف نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ صدر مشرف نے برسلز میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ انہوں نے یورپی اتحاد کی پاکستانی منڈیوں تک رسائی جیسے مسائل پر بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا: ’ہمیں معاشی ترقی کی نمو برقرار رکھنی ہے لہذا میں یورپی اتحاد کی پاکستانی منڈیوں تک پہنچ کا منتظر ہوں‘۔ اس سے قبل صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے یورپ کے دورے کے پہلے مرحلے میں کہا تھا کہ پاکستان کو انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے غیر حقیقی معیار پر نہیں پرکھنا چاہیے۔ انہوں نے مغرب پر الزام لگایا کہ اس پر جمہوریت کا بھوت سوار ہے۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ’میں ایک ایسا فوجی ہوں جسے جمہوریت اور انسانی حقوق پر پختہ یقین ہے لیکن میری گزارش ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کا جنون طاری کر لینا درست نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ’ آپ کے اپنے ماحول میں رہتے ہوئے جمہوریت اور انسانی حقوق کے جنون پر اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ آپ لوگ جہاں اب ہیں وہاں پہنچنے کے لیے آپ کو کئی صدیاں لگیں۔ مہربانی کر کے ہمیں اس معیار پر پہنچنے کے لیے کچھ وقت دیں جہاں آپ اب ہیں۔ ہماری سمت درست ہے لیکن ہمارا اور آپ کا ماحول بہت مختلف ہے‘۔ بیلجیم میں پاکستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ ان کے اس دورے کا مقصد یورپ میں پاکستان کے بارے میں تاثرات کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے ماہ پاکستان میں ہونے والے انتخابات جمہوری روایات کے مطابق ہوں گے۔ جب ان سے پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں حکومت کی ناکامیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ’یہ صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ’ اگر ہم ناکام ہورہے ہیں تو یہ اجتماعی طور پر اُن تمام کی ناکامی ہے جو عالمی سطح پر دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری سمت اور حکمت علمی درست ہے۔ہمیں ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے لیکن ہمارا راستہ درست ہے‘۔ صدر مشرف نے اپنے دورے پر روانہ ہونے سے پہلے بھی کہا تھا کہ وہ یہ دورہ یورپ میں پاکستان کی ساکھ بہتر کرنے کے لیے کر رہے ہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ انہیں اپنے میزبانوں کو پاکستان اور افغانستان میں جمہوریت کے حق میں اور شدت پسندی کے خلاف اپنی ثابت قدمی کے ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔ بینظیر بھٹوکی موت کے بعد یہ صدر مشرف کا پہلا یورپی دورہ ہے۔ اُدھر پاکستان میں صدر مشرف کے اس غیر ملکی دورے کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جارہی اور اس بات میں بھی کچھ زیادہ شک نہیں کہ ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب وہ اندرون ملک اپنی ساکھ کے انتہائی نچلے درجے پر پہنچ چکی ہے۔
پاکستان میں کروائے جانے والے کئی جائزوں میں سامنے آیا ہے کہ اب صدر مشرف اتنے غیر مقبول ہوگئے ہیں کہ اکثر لوگ حزب اختلاف کی رہنماء بینظیر بھٹو کے قتل کے لیے حکومتی اداروں یا ان کے سیاسی حامیوں پر شک کر رہے ہیں۔ تاہم اندرون اور بیرون ملک صدر مشرف کے بارے میں متضاد خیالات پائے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی طور پر انہیں اب بھی پاکستان میں استحکام کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اکثر لوگ اُنہیں سیاست پر فوج کے غلبے کے ساتھ ساتھ ملک میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ سمجھتے ہیں۔ صدر مشرف یورپ کے آٹھ روزہ دورے کے دوران برسلز کے بعد برطانیہ ، فرانس اور پھر سوئٹزر لینڈ جائیں گے جہاں وہ ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کریں گے۔صدر مشرف یورپی پارلیمان کے خارجی امور کی کمیٹی سے بھی خطاب کریں گے۔ |
اسی بارے میں مشرف کا دورۂ یورپ، احتجاج کا سامنا21 January, 2008 | پاکستان یورپ کے دورے پر احتجاج کا سامنا21 January, 2008 | پاکستان مشرف یورپ کے دورے پر20 January, 2008 | پاکستان جیو نشریات کو بحال کرنے کا حکم20 January, 2008 | پاکستان بینظیر قتل: ’ایک نوجوان گرفتار‘20 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||