BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 December, 2007, 22:23 GMT 03:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسٹیبلشمنٹ کا دیو

بینظیر کا قصور یہ تھا کہ وہ بات چیت پر یقین رکھتی تھیں
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ تین پولیس والے ڈینگیں مار رہے تھے۔امریکی پولیس والے نے کہا کہ امریکہ میں وہ ایک جرم کو چوبیس گھنٹوں میں حل کر لیتے ہیں اور مجرم کو پکڑ لیتے ہیں۔ دوسرا برطانوی پولیس والا بولا کہ ہم برطانیہ میں بارہ گھنٹے کے اندر مجرم کو پکڑ لیتے ہیں۔ تیسرا پاکستانی پولیس والا تھا وہ دونوں ساتھیوں کی بات سن کر ہنسا اور کہنے لگا کہ ہم تو پاکستان میں جرم ہونے سے چوبیس گھنٹے پہلے ہی پتہ کر لیتے ہیں۔
 آخر یوگوسلوایہ میں جو ہوا اور جگہوں پر بھی ہو سکتا ہے۔ دوسرا کہ اس ملک کے ٹکڑے ہونے کا بیرونی طاقتوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ آخر پاکستان محض ایک طفیلی یا ’ کلائنٹ‘ ریاست ہے جس سے کسی قسم کا بھی سلوک ہوسکتا ہے۔

ثابت یہ ہوا کہ پاکستانی پولیس سب سے زیادہ قبل ہے۔اب تو معلوم ہوا ہے کہ وزارتِ داخلہ بھی ذہین لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ اب دیکھیں کہ بریگیڈئر چیمہ نے بارہ گھنٹےہ کے اندر بینظیر بھٹو کو موت کی وجہ معلوم کر لی۔انہوں نے اس جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کا بھی انتظار نہیں کیا جس کو بینظیر بھٹو کی موت کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے اور پھر انتظار کرنے کی کیا خاص ضرورت ہے۔ حکومت نے قتل کے بارہ گھنٹے کے اندر وہ تمام شواہد مٹا دیئے جن سے شاید کچھ معلوم ہوتا کہ گولی کس نے چلائی کہاں سے چلی اور کیا ہوا۔

اب کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انکوائری کمیشن کے ممبران آصف زرداری کی مرضی کے ہوں یا نہ ہوں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بغیر کچھ بھی فیصلہ کرنا مشکل ہوگا۔ رہی جسدِ خاکی کو دوبارہ نکال کر پوسٹ مارٹم کرنے کی بات تو بریگیڈئر چیمہ کو بھی اندازہ ہو گا کہ ہماری تہذیب میں ایسی بات کو مرنے والی کی بے حرمتی سمجھا جاتا ہے۔

ویسے بھی پوسٹ مارٹم اگر ملک میں ہوگا تو انصاف کی امید کس سے کی جائےکیا وہ لوگ انصاف کریں گے حو کہ اصل راشد راؤف قسم کے دہشت گردوں کو آسانی سے بھگا دیتے ہیں۔ ویسے بھی اگر جسدِ خاکی کو دوبارہ نکالا گیا تو ملک بھر میں پھر سے غم و غصہ اور نفرت کی آگ بھڑک اٹھے گی۔

بینظیر بھٹو کا قتل اس بات کا غماز ہے کہ حکومت کس حد تک جا سکتی ہے۔ دہشت گردی اور القاعدہ وہ تاش کے پتے ہیں جس سے فوج اپنا زور اور اثر رسوخ بڑھا رہی ہے۔

اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے ان لیڈرز کو جو کہ بات کرنے کو تیار ہوتے ہیں ان کو مار دیتی ہے۔بینظیر بھٹو سے پہلے نواب اکبر بگٹی کا قتل بھی اس بات کا عکاس ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ گفت و شنید میں یقین نہیں رکھتی۔

اب ہم اس سے کیا سمجھیں کہ بینظیر بھٹو کا قصور یہ تھا کہ وہ گفتگو کرنے میں یقین رکھتی تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اب اس کے ساتھ مل کر اندر سے بدلا نہیں جا سکتا۔ یہ اس دیو کی طرح ہے جو زندگیوں اور روحوں کو ہڑپ کر لیتی ہے لیکن اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ یا ’وار ان ٹیرر‘ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان میں جو مفاد پرست عناصر ہیں ان سے یہ سمجھ رکھا ہے کہ دہشت گردی سے جنگ کے بہانے اور ملک کے ایٹمی ہتھیار کی وجہ سے دنیا کی سب طاقتیں ہمیشہ اُن کا ساتھ دیں گی۔

انیس سو سینتالیس کے بعد سے اس مفاد پرست طبقے نے بیرونی طاقتوں کیلے کام کیا ہے جس کے بدلے میں انہیں پیسہ، دولت اور طاقت ملا ہے۔ مفاد پرست ٹولا ملک کی خواص پر مبنی ہے جس میں بڑے سیاستدان، جرنیل اور سرمایہ دار آ جاتے ہیں اور تو اور بڑے بڑے مولوی بھی اس کا حصہ ہیں۔

یہ مفاد پرست سیاست کو پنپنے نہیں دینا اور جہاں کوئی ایسا لیڈر نظر آتا ہے جس کی رسائی عوام تک ہو تو اس مار دیا جاتا ہے۔ مسائل دو ہیں۔ ایک تو یہ کہ ایسی پالسیوں سے پاکستان کمزور سے کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ آخر یوگوسلوایہ میں جو ہوا اور جگہوں پر بھی ہو سکتا ہے۔ دوسرا کہ اس ملک کے ٹکڑے ہونے کا بیرونی طاقتوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ آخر کو پاکستان محض ایک طفیلی یا ’ کلائنٹ‘ ریاست ہے جس سے کسی قسم کا بھی سلوک ہوسکتا ہے۔



ڈاکٹر عائشہ صدیقہ دو کتابوں کی مصنفہ ہیں جبکہ کئی تحقیقی مقالے بھی لکھ چکی ہیں۔ انہوں نے لندن کے کنگز کالج سے وار سٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ وہ1998 سے لے کر 1999 تک پاکستان ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کے ادارے میں ڈیفینس آڈیٹر کے طور پر کام بھی کر چکی ہیں۔ ان کی آخری کتاب پاکستانی فوج کی معیشت پر تھی۔
بھٹو کے جانشین
انکا بیٹا اور شوہر پارٹی کی قیادت کر سکیں گے؟
آصف زرداری کا سفرآصف زرداری کا سفر
پیپلز پارٹی کی سٹیئرنگ ابھی ان کے ہاتھوں میں ہے
راولپنڈی سانحہ
تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں
بینظیر، سوگ، احتجاج جاریچوتھا دن
بینظیر، سوگ، احتجاج جاری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد