BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 January, 2008, 08:30 GMT 13:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر قتل: ’ایک نوجوان گرفتار‘
 بینظیر بھٹو
بیت اللہ محسود بینظیر بھٹو کے قتل سے انکار کرتے ہیں
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے سلسلے میں ایک پندرہ سالہ لڑکے کو گرفتار کیا ہے جس نے اعتراف کیا ہے وہ اس گروہ کا حصہ ہے جس کو بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔

سکیورٹی حکام نے مذکورہ لڑکے کا نام نہیں بتایا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ لڑکے نے انہیں بتایا ہے کہ وہ اس گروہ میں شامل تھا جو بینظیر بھٹو کو پہلے گروپ کے ہاتھوں ہلاک نہ ہونے کی صورت میں کارروائی کرتا اور انہیں قتل کرتا۔ حکام کے مطابق لڑکے کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کو طالبان جنگجو بیت اللہ محسود کی ہدایت پر قتل کیا گیا ہے۔

ستائیس دسمبر کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر بینظیر بھٹو کو قتل کیے جانے کے بعد اس سلسلے میں کی جانے والی پہلی گرفتاری ہے اور حکام کے مطابق اتوار کو لڑکے سے تفتیش کی گئی ہے، تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تفتیش کار لڑکے کے دعوے کو قدرے شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

وزارت داخلہ کے سیکرٹری کمال شاہ نے بتایا کہ صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں ایک نوجوان لڑکا ہے جس نے بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

سیکرٹری داخلہ کے مطابق دونوں افراد سے الگ الگ تفتیش جاری ہے تاکہ لڑکے کے دعوے کے سچ یا جھوٹ ہونے کا تعین کیا جا سکے۔

ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ لڑکے نے اعتراف کیا ہے کہ بیت اللہ محسود نے پانچ افراد پر مشتمل ایک ٹیم کو بینظیر بھٹو کو ہلاک کرنے کے لیے راولپنڈی بھیجا تھا۔

 حکومتِ پاکستان نے بھی بینظیر کے قتل کے بعد بیت اللہ محسود کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا لیکن بیت اللہ محسود نے اس الزام سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے
سکیورٹی حکام اپنا نامظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر بتایا کہ مذکورہ لڑکے کو جمعرات کو حراست میں لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے بھی ستائیس دسمبر کو ہونے والے اس قتل کے بعد بیت اللہ محسود کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ حکومت نے کہا تھا کہ اس حوالے سے بیت اللہ اور ان کے ساتھیوں کی ٹیلیفونک گفتگو بھی ٹیپ کی گئی ہے، لیکن بیت اللہ محسود نے اس الزام سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

دو دن قبل امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے نے بھی کہاتھا کہ بیت اللہ محسود اور القاعدہ ہی بینظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا تھا کہ سابق پاکستانی وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل میں بیت اللہ محسود کے جنگجو ساتھی ملوث تھے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کن بنیادوں پر یہ دعوٰی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد