تصاویر، وڈیوکلپس کا پھر سے جائزہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بےنظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ) کی طرف سے مبینہ خودکش حملہ آور کی شناخت نہ ملنے کی وجہ سے ان تصاویر اور ویڈیو کلپس کا ایک بار بھر جائزہ لے رہی ہے جو بینظیر بھٹو کے قتل کے وقت اُتاری گئی تھیں۔ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پولیس نے جائے حادثہ کو دھو ڈالا تھا اور نگران وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے وہاں سے ضروری شواہد اکھٹے کر لیے ہیں لیکن جمعہ کو وہاں سے لوگوں کو ایک موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ ملی ہے جسے انہوں نے اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے حوالے کردیا ہے۔ تفتیش کرنے والی ٹیم کے ارکان نے جمعہ کے روز مختلف پرائیویٹ ٹی وی چینلز اور اخبارات کا بھی دورہ کیا اور انہوں نے وہاں سے ویڈیو کلپس اور تصاویر بھی حاصل کیں۔ اس کے علاوہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے ارکان اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پاکستانی ٹیم کے ارکان کے ساتھ مل کر سانحہ کے روز تشکیل دیے جانے والے سیکورٹی پلان کا دوبارہ جائزہ لینے کے علاوہ مذید پولیس اہلکاروں کے بیابات قلمبند کیے ہیں جو واقعہ کے روز جائے حادثہ کے قریبی علاقوں میں تعینات تھے۔ اس کے علاوہ ان پولیس اہلکاروں کے زیر استعمال موبائل فون کے ریکارڈ بھی چیک کیے گئے۔ تفتیشی ٹیم پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر کی ہلاکت کے بارے میں راولپنڈی جنرل اسپتال کے ڈاکٹروں کی ابتدائی رپورٹ کا بھی بغور جائزہ لے رہی ہیں۔ راولپنڈی پولیس کے ایک اعلی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چند پولیس اہلکار بیت اللہ محسود کی مبینہ ٹیلی فون کی ریکارڈنگ کو ماہرین سے چیک کروانے کے لیے ایف آئی اے کی لیبارٹری لیکر کر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ وزارت داخلہ نے بیت اللہ محسود کی ایک اور بات چیت کی ریکارڈنگ بھی پولیس کے حوالے کی ہے جو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اس سانحہ سے قبل ریکارڈ کی تھی۔ واضح رہے کہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے چوبیس گھنٹے کے بعد وزارت داخلہ نے اس دھماکے کی زمہ داری بیت اللہ محسود پر ڈال دی تھی اور وزارت داخلہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دروان ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی سنائی تھی جس میں بیت اللہ محسود ایک اور شخص کے ساتھ بات کر رہے ہیں اور انہیں اس واقعہ پر مبارکباد دے رہے ہیں۔تاہم بیت اللہ محسود نے حکومتی دعوے کی تردید کر دی تھی۔
اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پاکستانی ٹیم میں شامل ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ تفتیشی ٹیم پہلے بےنظیر بھٹو کے قتل کے حقائق جاننے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ مرحلہ بعد میں آئے گا کہ اس واقعہ میں کون ملوث ہوسکتا ہے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے چار جنوری کو پاکستان آئی تھی جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت اس سانحہ کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ |
اسی بارے میں بینظیرقتل: برطانوی ٹیم معاونت کریگی04 January, 2008 | پاکستان بینظیرقتل، برطانوی تفتیش شروع05 January, 2008 | پاکستان بینظیر قتل، پولیس نفری پر سوال06 January, 2008 | پاکستان ’تحقیقات میں مروجہ طریقے سےانحراف‘05 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||