BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 January, 2008, 09:04 GMT 14:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی کی یو این سے باقاعدہ اپیل

بے نظیر بھٹو
اپیل میں کسی ادارے یا فرد پر بےنظیر کے قتل کا شک ظاہر نہیں کیا گیا
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کو باقاعدہ اپیل روانہ کر دی ہے۔

آصف علی زرداری کے قانونی مشیر فاروق ایچ نائیک نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اپیل بدھ کو روانہ کی گئی ہے۔

فاروق نائیک کے مطابق اپیل میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون، سلامتی کونسل کے سربراہ اور مستقل رکن ممالک کے نمائندوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے اسی طرح کا بین الاقوامی کمیشن قائم کریں جس طرح لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔

فاروق نائیک کا کہنا ہے کہ اپیل میں پاکستانی اداروں کی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملکی اداروں کی تفتیش سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ’اس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ہم حکومت سے محترمہ کی سکیورٹی کی ڈیمانڈ کرتے رہے لیکن انہوں نے سکیورٹی فراہم نہیں کی اور جو ان کا قتل ہے اس میں حکومت کہتی ہے کہ القاعدہ ملوث ہے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ کس ملک میں یہ سازش تیار کی گئی اور اس کے اسپانسرز کس ملک میں بیٹھے ہیں تو جب تک غیرجانبدارانہ تحقیقات نہیں ہوں گی اس معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچا جاسکتا‘۔

فاروق نائیک نے بتایا کہ اپیل کے ساتھ متعدد دستاویزات بھی بھیجی گئی ہیں ان میں بے نظیر بھٹو کی جانب سے ان کی زندگی میں حکومت کو لکھے گئے خطوط اور عدالتوں میں داخل کی گئی اپیلیں بھی شامل ہیں۔

ہم حکومت سے محترمہ کی سکیورٹی کی ڈیمانڈ کرتے رہے لیکن انہوں نے سکیورٹی فراہم نہیں کی اور جو ان کا قتل ہے اس میں حکومت کہتی ہے کہ القاعدہ ملوث ہے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ کس ملک میں یہ سازش تیار کی گئی اور اس کے اسپانسرز کس ملک میں بیٹھے ہیں تو جب تک غیرجانبدارانہ تحقیقات نہیں ہوں گی اس معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچا جاسکتا
فاروق نائیک

انہوں نے بتایا کہ آصف زرداری نے اپنی اس اپیل میں کسی ادارے یا فرد پر بےنظیر بھٹو کے قتل کا شک ظاہر نہیں کیا ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ ریکارڈ پر بے نظیر بھٹو کے اپنے خطوط موجود ہیں جن سے بین الاقوامی تفتیش کار مدد لے سکتے ہیں۔

فاروق نائیک کے مطابق آصف زرداری نے واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کا بھی تذکرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس ٹیم کو محدود اختیارات دیے گئے ہیں اور اس کی تفتیش کو قاتلوں کے بجائے قتل کی وجہ معلوم کرنے تک محدود رکھا گیا ہے۔ان کے مطابق اب تک اقوام متحدہ کے کسی اہکار یا نمائندے نے آصف علی زرداری سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ صدر پرویز مشرف اور نگراں حکومت نے پیپلز پارٹی کے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کردیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرائی جائے۔

اسی بارے میں
برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف
02 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد