BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 January, 2008, 19:02 GMT 00:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیرکاقتل اور یواین سےتفتیش

بینظیر بھٹو
حکومت کے بقول بینظیر بھٹونے سیاسی سرگرمیوں کی خاطر ذاتی حفاظت کے تقاضے پورے نہیں کیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ اصرار بڑھتا جارہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات پاکستانی ادارے نہیں بلکہ اقوام متحدہ کرے تاکہ ملک میں بڑھنے والے خود کش حملوں کے پیچھے عناصر کا مکمل طور پر پتہ لگایا جاسکے۔

پیپلز پارٹی کے چئیرپرسن آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے ملک میں ہی کوئی طاقت ہے اور ان کا اشارہ براہ راست حکومت کے خفیہ اداروں کی جانب ہے جن پر خود بے نظیر بھٹو نے وطن واپسی سے پہلے شبہات کا اظہار کیا تھا۔

صدر مشرف اس تاثر کو رد کرتے ہوۓ کئ بار کہ چکے ہیں کہ پاکستان اور لبنان میں فرق ہے اور عالمی ادارے کا اس واقعے کی تفتیش کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ستائیس دسمبر کے بعد جب اقوام متحدہ کے پندرہ اراکین پر مشمل سلامتی کونسل نے بے نظیر بھٹو کے قتل پر ہنگامی اجلاس بلاکر اس پر شدید افسوس ظاہر کیا تو بعض انسانی حقوق کی تنظیموں کے اصرار کے باوجود کونسل نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے پر کوئی بات نہیں کی اور نہ کسی شریک ملک نے عالمی ادارے سے قتل کی تفتیش کرانےکی آواز اٹھائی تھی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر مشرف نے اپنے اتحادیوں کو پہلے ہی آمادہ کرلیا ہے کہ وہ آزادانہ تحقیقات کرانے پر زور نہ ڈالیں اور نہ ان کی حکومت پر کوئی تنقید کریں حالانکہ ہلری کلنٹن سے لے کر انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے رابرٹ ٹیمپلر تک سبھی نے پاکستان کے تحقیقاتی اداروں پر سوالیہ نشان لگاکر عالمی ادارے کو ازخود تحقیقات کرنے پر زور دیا۔

اقوام متحدہ کے قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اگرچہ اقوام متحدہ اس طرح کی سیاسی ہلاکتوں کی گھتی سلجھانے کا اہل ہے مگر ادارہ ایسا اقدام اسی وقت کرسکتا ہے جب اسکے لۓ حکومت پاکستان اپیل کرے یا خود سلامتی کونسل اسکا فیصلہ کرسکے۔ اس کے سوا اپنے طور پر وہ خود کوئی تحقیقات کرنے کے مجاز نہیں ہوتے

لبنان میں رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کرانے کے لۓ وہاں کی حکومت نے عالمی ادارے سے درخواست کی تھی۔

پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے کا جواز پیش کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ اگر حکومت پاکستان بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری القاعدہ پر ڈالتی ہے اور دنیا اس تنظیم کو عالمی دہشت گرد گروہ سمجھتی ہے تو عالمی ادارے سے تحقیقات کیوں نہیں کرائی جاسکتی ہے۔
آصف زرداری نے بی بی سی کے ساتھ ایک گفتگو میں کہا کہ جب ملک کے حکمرانوں پر شک ہو جو ہر خود کش حملے کو دہشت گردی کے زمرے میں ڈالتے ہیں تو ایسے حالت میں آزادانہ ادارے سے تحقیقات کرانے سے شکوک کو دور کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مطالبہ صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں انسانی حقوق کی کئ عالمی تنظیموں نے کیا ہے اورحکومت پاکستان کو یہ مطالبہ ماننا ہوگا۔

زرداری کی اس بات میں تو بہرحال وزن ہے کہ القاعدہ کو عالمی تنظیم تصور کیا جاتا ہے مگر تنظیم کے ہاتھوں آج تک جتنی ہلاکتوں کا دعوٰی کیا گیا ہے کیا ان کی تحقیقات کسی عالمی ادارے نے کی ہے شاید ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔

نائن الیون کے حملوں یا القاعدہ سے منصوب حملوں میں ملوث افراد کے خلاف آج تک جو بھی کاروائی ہوئی وہ متعلقہ ملکوں نے خود کی گوکہ مختلف ممالک کے درمیان ان افراد کے خلاف انٹیلجنس کی شراکت ہوتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے خدشات اپنی جگہ صحیح ہوسکتے ہیں مگر پارٹی کی مجبوری بھی خفیہ نہیں وہ یہ بھی کھل کر کہہ نہیں سکتی کہ ملک کے ادارے جھوٹے اور جعلی ہیں اور انہیں ان پر یقین نہیں جیسا کہ آصف زرداری کے ساتھ انٹرویو کے دوران محسوس ہوا جب وہ کچھ کہتے کہتے رکے۔

پھر ان اداروں کو بنانے یا بگاڑنے میں خود پیپلز پارٹی کا بھی کچھ کچھ ہاتھ ہے۔

یہ بات یقینی ہے کہ صدر مشرف کے ہوتے ہوۓ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات عالمی ادارے سے نہیں کرائی جائیں گی مگر اب سب کی نظریں آنے والے انتخابات پر ہیں۔

امید کی جارہی ہے کہ ہمدردی ووٹ کے نتیجے میں شاید پیپلز پارٹی اقتدار میں آجائے اور اگر ایسا ہوا تو جہاں صدر مشرف کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑنے کا امکان ہے وہیں پارٹی اقوام متحدہ سے بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرانے کی ایپیل بھی کرسکتی ہے۔

البتہ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستانی سیاست اور سیاسی جماعتیں وہ نہیں رہتیں جو انتخابات کے دوران ہوتی ہے اور اس طرز عمل میں پیپلز پارٹی تمام جماعتوں کی آگے ہے۔

اسی بارے میں
بینظیر کے خلاف مقدمہ ختم
15 January, 2008 | پاکستان
بینظیر کی سکیورٹی پر تشویش
14 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد