BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 January, 2008, 11:45 GMT 16:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکاٹ لینڈ یارڈ: ہسپتالوں کا دورہ

سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم
ڈیوڈ کیتھ کی سربراہی میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم سب سے پہلے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال گئی
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے اپنی تفتیش کے دوسرے مرحلے میں پیر کے روز کمبائنڈ ملٹری ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہسپتال راولپنڈی کا دورہ کیا اور انہوں نے ان زخمیوں کے بیانات بھی قلمبند کیے جو اس سانحہ میں زخمی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ ستائیس دسمبر کو لیاقت باغ کے باہر ہونے والے خودکش حملے میں بےنظیر بھٹو سمیت چوبیس افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

ڈیوڈ کیتھ کی سربراہی میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم سب سے پہلے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال گئی جہاں پر انہوں نے ان نو افراد سے ملاقات کی جو اس واقعہ میں زخمی ہوئے تھے اور انہوں نے ان کے بیانات بھی قلمبند کیے۔

اس کے بعد غیر ملکی ماہرین پر مشتمل نے ڈسٹرکٹ ہسپتال کا دورہ کیا جہاں پر انہوں نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ خالد ملک سے اُن افراد کے پوسٹمارٹم کے بارے میں تفصیلات معلوم کیں جو اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتال کی انتظامیہ نے اس واقعہ میں جو افراد ہلاک ہوئے تھے انکے سرسری پوسٹمارٹم کے بعد ان کی لاشیں روثاء کے حوالے کردی تھیں اور کسی کا بھی تفصیلی پوسٹمارٹم نہیں کیا گیا تھا۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم ڈسٹرکٹ ہسپتال کے مردہ خانے میں بھی گئے جہاں پر انہوں نے مبینہ خودکش حملہ آور کا نامکمل چہرہ، ہاتھ اور ٹانگ کا بھی معائنہ کیا اور ان کی تصاویر بھی اتاریں۔

ان ہسپتالوں کے دورے کے بعد یہ ٹیم پولیس لائنز ہیڈکوارٹر رونہ ہوگئی جہاں پر اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پاکستانی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی پنجاب چوہدری عبدالمجیداور دیگر ارکان کے ساتھ ان زخمیوں کے بیانات کے مختلف پہلووں پر گفتگو کرتے رہے جو انہوں نے اس دورے کے دوران حاصل کیے تھے۔

واضح رہے کہ جب سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے سٹرکٹ ہسپتال کا دورہ کیا تو اس دوران ہسپتال کا شعبہ بیرونی مریضاں مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا اور کسی کو بھی ہسپتال کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید پرشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ٹیم نے ابھی تک ان ڈاکٹروں سے ملاقات نہیں کی جنہوں نے بےنظیر بھٹو کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی تھی۔

ادھر وزارت داخلہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے پاس بےنظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے موبائیل کیمرے سے بائی گئیں تصاویر یا ویڈیو موجود ہے تو وہ وزارت داخلہ کو بھیج دیا تاکہ اس واقعہ کی تحقیقات میں مدد مل سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد