بینظیر کے خلاف مقدمہ ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے منگل کے روز پیپلز پارٹی کی مقتول چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس ختم کردیا ہے۔ دو دیگر مقدمات کی سماعت جن میں ان کے علاوہ ان کے شوہر آصف علی زرداری بھی نامزد ہیں، تیس جنوری تک ملتوی کردی ہے۔ قومی احتساب بیورو کےڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل نیب ڈاکٹر دانشور ملک عدالت میں پیش ہوئے اور جج نے ان کی موجودگی میں کہا کہ وہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ان کے خلاف یہ ریفرنس ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ریفرنس میں بینظیر بھٹو اکیلی نامزد ملزم تھیں جبکہ اثاثہ جات کے ایک اور مقدمے میں ان کے شوہر آصف علی زرداری بھی نامزد ملزم ہیں۔ یہ پہلا مقدمہ ہے جو بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ختم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر تین اور چار میں بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف ’کوٹیکنا‘ اور اختیارات کا ناجائز استعمال اور ٹریکٹروں کی خریداری کے مقدمات کی سماعت تیس جنوری تک ملتوی کردی گئی ہے۔ ملزمان کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ جس طرح احتساب عدالت نمبر ایک کے جج نے بینظیر بھٹو کے خلاف ریفرنس ختم کیا ہے اسی طرح ان عدالتوں کو بھی ان کے خلاف مقدمات ختم کردینے چاہیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس ضمن میں انہیں متعلقہ حکام کی طرف سے واضح ہدایات نہیں ملیں لہذا ان مقدمات کی سماعت ملتوی کردی جائے جس پر عدالت نے ان مقدمات کی سماعت تیس جنوری تک ملتوی کردی۔ ’ایس جی ایس‘ اور ’کوٹیکنا‘ نامی دونوں یورپی کمپنیاں درآمد کردہ سامان کی مالیت طے کرنے اور اس حساب سے ٹیکس وصول کرنے کی سفارشات کا کام کرتی ہیں۔ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں دونوں کمپنیوں کو پری شپمینٹ انسپیکشن کے ٹھیکے اس بنیاد پر دیےگئے کہ بعض پاکستانی درآمد کنندہ درآمد کردہ اشیاء پر ٹیکس سے بچنے کے لیے ان کی قیمتیں کم ظاہر کرتے ہیں اور اس طرح خزانے کو نقصان پہنچتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب مسلم لیگ نواز کی حکومت قائم ہوئی تو بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ’ کمیشن‘ کی خاطر ایس جی ایس اور کوٹیکنا کمپنیوں کو ٹھیکے دیئے اور بھاری رقم حاصل کی۔ واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو میں ہونے والی مصالحت کے نتیجے میں صدرِ پاکستان نے ’قومی مصالحت آرڈیننس‘ نامی قانون جاری کیا جس کے تحت یکم جنوری انیس سو چھیاسی سے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے تک جو بھی مقدمات درج ہوئے اور تاحال زیر سماعت ہیں وہ ختم ہوجائیں گے۔ جب پانچ اکتوبر کو یہ قانون نافذ کیا گیا تو اُسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ بارہ اکتوبر کو سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا تھا کہ اگر ان آئینی درخواستوں کی مکمل سماعت کے بعد عدالت یہ قرار دے کہ یہ آرڈیننس غیر آئینی ہے تو پھر کوئی شخص اس سے مستفید نہیں ہو سکے گا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد راولپنڈی کی احتساب عدالتوں نے قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر کے خلاف بدعنوانی کے دو مقدمات ختم کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ متعلقہ قانون کے بارے میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے تک مؤخر کر دیا تھا۔ مبینہ بدعنوانی کے اِن سمیت کئی مقدمات سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر کے خلاف گیارہ برسوں سے احتساب کی خصوصی عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ | اسی بارے میں ’بدلہ نہیں، حقائق جاننا چاہتے ہیں‘10 January, 2008 | پاکستان ’سر کا زخم، بیرونی مواد نہیں تھا‘12 January, 2008 | پاکستان سکاٹ لینڈ یارڈ، زرداری ملاقات15 January, 2008 | پاکستان قانونی مشکلات ختم نہیں ہوئیں29 October, 2007 | پاکستان سندھ: عدالتوں میں مقدمے خارج09 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||