قانونی مشکلات ختم نہیں ہوئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی کا خاتمہ کر کے وطن واپس لوٹنے کے بعد انتخابات کی تیاری کر رہی ہیں۔ بینظیر کی واپسی اس وقت ہی ممکن ہوئی ہے جب پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے انہیں ایک متنازعہ آرڈیننس کے ذریعے معافی دی۔ سپریم کورٹ اب بھی اس معافی کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے اور اگر عدالت اس معافی کو مان بھی لے تب بھی بینظیر کو پاکستان سے باہر بہت سے مقدمات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایسا ہی ایک مقدمہ سوئٹزرلینڈ میں درج ہے جہاں سنہ 2003 میں جنیوا کے ایک مجسٹریٹ نے انہیں منی لانڈرنگ کا خطاوار قرار دیا تھا۔ مجسٹریٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ بینظیر اور ان کے ساتھیوں نے ایس جی ایس اور کوٹیکنا نامی سوئس کمپنیوں سے’ کک بیکس‘ کی صورت میں پندرہ ملین ڈالر وصول کیے۔ مجسٹریٹ نے بینظیر اور ان کے شوہر کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی اور ان سے کہا تھا کہ وہ حکومتِ پاکستان کو قریباً بارہ ملین ڈالر لوٹائیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مجسٹریٹ ڈینیئل ڈیواڈ کا کہنا ہے کہ’مجھے اپنے ان فیصلوں پر کوئی شبہ نہیں جو کئی برس کی تحقیقات کے بعد سامنے آئے ہیں‘۔ بینظیر کی جانب سے ان کی غیر حاضری میں کیے جانے والے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی ہے اور اب اس مقدمے کی کارروائی دوبارہ جاری ہے۔ اس مقدمے کے حوالے سے بینظیر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ الزامات کردار کشی کی مہم کا حصہ ہیں۔ بینظیر بھٹو نے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا ہے اور انہوں نے اپنے شوہر آصف علی زرداری کے ہمراہ ہر ملک کی عدالت میں اپنا دفاع کیا ہے‘۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مشرف بینظیر ڈیل کے بعد یہ سوئس کیس ختم ہو جائے گا تاہم سوئس قانون کے تحت اگر حکومتِ پاکستان اس مقدمے میں تعاون ختم بھی کر دے تب بھی یہ قانونی کارروائی خود بخود ختم نہیں ہو سکتی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس مقدمے کے حالیہ منصف ونسٹن فورنیئر کا کہنا ہے کہ وہ حالیہ ہفتے میں یہ مقدمہ جنیوا کے اٹارنی جنرل کو سونپنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بینظیر کے خلاف ایک دوسرے بین الاقومی مقدمے کی کارروائی انگلستان میں ہو رہی ہے۔ اس مقدمے کی مدعی حکومتِ پاکستان کا الزام ہے کہ بینظیر اور ان کے شوہر نے ’کک بیکس‘ سے حاصل کردہ رقوم سے برطانوی کاؤنٹی سرے میں تین اعشاریہ چار ملین ڈالر مالیت کی راک وڈ اسٹیٹ خریدی ہے۔ بینظیر اور آصف علی زرداری آٹھ برس تک اس جائیداد کی ملکیت سے انکار کرتے رہے تاہم سنہ 2004 میں آصف علی زرداری نے اچانک اقرار کیا کہ یہ جائیداد ان کی ہے۔ پھر 2006 میں ایک انگریز جج لارڈ جسٹس کولنز نے اس مقدمے میں حتمی تو نہیں مگر ایک دلچسپ فیصلہ دیا جس کی رو سے انہوں نے اس بات پر زور تو نہیں دیا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی ثبوت ملے ہیں لیکن جسٹس کولنز کاکہنا تھا کہ اس بات کے واضح امکانات ہیں کہ مستقبل میں حکومتِ پاکستان آئندہ کی سماعت کے دوران یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر یا صرف ان کے شوہر نے راک وڈ اسٹیٹ’رشوت کی رقم‘ سے خریدی یا یہ رقم اس کی تزئین و آرائش میں استعمال کی گئی۔
بی بی سی کی جانب سے راک وڈ جائیداد سے متعلق سوال پر بینظیر بھٹو کے ترجمان نے کرپشن کے الزامات سے تو انکار کیا تاہم کوئی تفصیل فراہم نہیں کی جبکہ ان کے شوہر کے وکیل جسٹس کولنز کو بتا چکے ہیں کہ یہ مقدمہ مفروضات کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ لندن میں جاری یہ مقدمہ سول مقدمہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مشرف حکومت اسے جاری نہیں رکھنا چاہتی تو یہ ختم ہوجائےگا۔ اس کے علاوہ بینظیر بھٹو کا نام عراق کے تیل برائے خوراک سکینڈل میں بھی لیا جاتا رہا ہے۔ سنہ 2005 میں امریکی فیڈرل ریزرو کے سابق سربراہ پال والکر کی سربراہی میں قائم غیر جانبدار تفتیشی کمیشن نے پتہ لگایا تھا کہ 2003 سے قبل 2000 کمنپیوں نے اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صدام حسین حکومت کو غیر قانونی ادائیگیاں کی تھیں۔
ان کمپنیوں میں سے ایک کمپنی متحدہ عرب امارات میں قائم پیٹرولائن ایف زیڈ سی بھی تھی جس نے صدام حکومت کو دو ملین ڈالر ادا کیے تھے اور پاکستان کے قومی احتساب بیورو کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق بینظیر اس کمپنی کی سربراہ تھیں۔ اگر یہ دستاویزات اصل ہیں اور تیل برائے خوراک سکینڈل کے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ بینظیر بھٹو کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ہسپانوی حکام بھی ایسے لین دین کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں جس کا تعلق پیٹرولائن ایف زیڈ سی سے ہے۔ ادھر پاکستان میں قومی مفاہمتی آرڈیننس سنہ 1986 سے 1999 تک کے مقدمات کا احاطہ کرتا ہے جبکہ پیٹرولائن ایف زیڈ سی کے لین دین اس کے بعد کے زمانے کے ہیں اور یوں اس مقدمے پر آرڈیننس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ بینظیر بھٹو نے اپنے اوپر عائد کرپشن کے تمام الزامات سے انکار کیا ہے اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے اوپر عائد تمام الزامات سیاسی عداوت کا نتیجہ ہیں۔ تاہم پاکستان میں مفاہمتی آرڈیننس آنے کے باوجود ان سب غیر ملکی مقدمات کی موجودگی میں بینظیر کی قانونی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||