’سر کا زخم، بیرونی مواد نہیں تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقتول سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو راولپنڈی کے جنرل ہستال میں ابتدائی طبی امداد دینے والے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جب بینظیر بھٹو کو ہسپتال لایا گیا تو ان کے دونوں کانوں، ناک اور سر سے خون بہہ رہا تھا۔ ڈاکٹرز نے اپنی تحریری رپورٹ میں کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کے دائیں کان سے بائیں کان کی نسبت کچھ زیادہ خون ٹپک رہا تھا جبکہ ناک کی دائیں حصے اور منہ کے اندرونی حصہ سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم کے دائیں کان کے اوپر سر میں ناہموار بیضوی شکل کا زخم تھا جو کہ 5x3 سینٹی میٹر کا تھا۔ ڈاکٹرز کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق سر کے زخم سے مسلسل خون ٹپک رہا تھا اور زخم سے سفید مادہ جو کہ دماغ تھا وہ واضح نظر آرہا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سر کے زخم کے اندر تیز دھار ہڈیوں کے ٹکڑے بھی محسوس کیے گئے۔ جبکہ کوئی بیرونی مواد (گولی وغیرہ) زخم کے اندر محسوس نہیں ہوا۔ بینظیر بھٹو کی طبی رپورٹ کی کچھ تفصیلات: ’ستائیس دسمبر کو تقریبا پانچ بجکر پینتیس منٹ پر ایک خاتون مریض کو ایمرجنسی کے شعبہ میں لایا گیا جہاں ڈاکٹر اورنگزیب اور ڈاکٹر سعیدہ جو سرجیکل یونٹ II کی ہیں انہوں نے مریضہ کو دیکھا۔ یہ مریض بعد میں محترمہ بینظیر بھٹو کے طور پر شناخت ہوا۔
مریضہ کی نبض بند تھی اور سانس بھی نہیں لے رہی تھی۔ ان کا جسم پیلا نظر آیا، آنکھ کی پتلیاں رکی اور پھیلی ہوئی تھیں جبکہ روشنی دکھانے پر بھی پتلیوں سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں ہوا۔ محترمہ کے سر کے زخم سے مسلسل خون ٹپک رہا تھا اور زخم سے سفید مادہ جو کہ دماغ تھا وہ واضح نظر آرہا تھا۔ مریضہ کے کپڑے خون میں لت پت تھے۔ ان کےگلے میں خون اور ریزش نظر آئے جو نکال کر فوری طور پر انہیں مصنوعی سانس دینے اور دل کی دھڑکن کی بحالی کی کوشش شروع کردی گئی۔ دل کا مساج بھی کیا گیا اور ان کے دائیں ہاتھ پر کنولا لگا کر رگ کے اندر دوا ڈالی گئی اور دل کی دھڑکن بحال کرنے والی انجیکشن Adrenaline لگائی گئی۔ لیکن کوئی ریسپانس نہیں آیا۔ اس کے بعد مریضہ کو ایمرجنسی آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا لیکن اس دوران انہیں سانس دینےکا عمل بھی جاری رہا۔ آپریشن تھیٹر میں بیہوشی کے ڈاکٹر ارشد بھی ٹیم میں شامل ہوگئے اور پروفیس ڈاکٹر مصدق بھی تقریبا پانچ بجکر پچاس منٹ پر پہنچ گئے۔ اس دوران جب دل کی دھڑکن بحال نہیں ہوئی تو بائیں طرف سے پسلی توڑ کر مریضہ کے دل کا اندرونی مساج کیا گیا اور انہیں دھڑکن کی بحالی کا انجیکشن، کیلشیم گلوکونیٹ اور سوڈیم بائی کاربونیٹ بھی دیا گیا لیکن پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس دوران پروفیسر اعظم یوسف اور ڈاکٹر قدسیہ نے بھی محترمہ کی سانسیں بحال کرنے والی ٹیم میں شامل ہوگئے۔ دل اور سانس بحال نہیں ہوئے اور ’ای سی جی‘ میں بھی کوئی برقی سرگرمی نظر نہیں آئی۔ چھ بجکر سولہ منٹ پر مصنوعی سانس اور دل کی بحالی کی کوششیں ختم کرکے مریضہ کے موت کا اعلان کیا گیا۔ سر کے زخم کو پٹی باندھ کر بند کردیا گیا۔ اس دوران پروفیس عارف ملک اور پروفیسر سلیم بھی ہسپتال پہنچے۔‘ رپورٹ پر سات ڈاکٹرز جن میں پروفیسر محمد مصدق خان، ڈاکٹر حبیب احمد خان، پروفیسر اعظم یوسف، ڈاکٹر اورنگزیب خان، ڈاکٹر سعیدہ یاسمین، ڈاکٹر قدسیہ انجم قریشی اور ڈاکٹر ناصر خان شامل ہیں، انہوں نے دستخط کیے ہیں۔ رپورٹ کی کاپی بی بی سی کے پاس دستیاب ہے۔ |
اسی بارے میں بینظیر بھٹو:منفرد سیاسی شخصیت کی مالک 27 December, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو قاتلانہ حملے میں ہلاک27 December, 2007 | پاکستان بینظیر کی ای میل کوبنیاد بنایا جائے05 January, 2008 | پاکستان ’یہ قتل کا ایک سادہ معاملہ ہے‘12 January, 2008 | پاکستان بینظیر بھٹو کی میت لاڑکانہ پہنچ گئی27 December, 2007 | پاکستان ایک اور بھٹو کا قتل27 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||