 | | | انٹرنیشنل کرائسس گروپ صدر پرویز مشرف کی حمایت پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے |
حکومتِ پاکستان نے برسلز میں قائم تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی اس رپورٹ کو اپنے داخلی امور میں مداخلت قرار دیا ہے جس میں صدر پرویز مشرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملکی استحکام کی خاطر اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ پاکستانی حکومت کے ایک ترجمان نے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے جانبدارانہ اور زمینی حقائق سے دور قرار دیا ہے۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی اس رپورٹ کا عنوان ہے ’بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان کا مستقبل‘۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں دی گئی یہ تجویز پاکستانی قوانین کے مطابق بغاوت پر اکسانے کے مترادف ہے کہ پاکستانی فوج صدر مشرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کرے۔ ترجمان نے پاکستانی میڈیا کو ہدایت کی کہ وہ ایسا مواد احتیاط کے ساتھ شائع کیا کرے۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ صدر مشرف کی حمایت کرنے پر امریکہ پر کڑی تنقید کرتا رہا ہے۔ گروپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ امریکی کانگریس کے کچھ ارکان پر خاصا اثر رکھتا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک حالیہ انٹرویو میں امریکی صدر بش کا کہنا تھا کہ وہ صدر مشرف کی اس لیے حمایت کرتے ہیں کیونکہ وہ دہشتگردی سے نمٹنے میں ایک اہم اتحادی ثابت ہوئے ہیں جبکہ انہوں نے فوجی وردی اتارنے کا اپنا وعدہ بھی پورا کردیا ہے اور ملک میں انتخابات بھی کروانے جا رہے ہیں۔ ستائیس دسمبر کو سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والی امن و امان کی صورتحال کے باعث آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات ملتوی کر کے اٹھارہ فروری نئی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ |