BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 January, 2008, 02:11 GMT 07:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چہرہ بلاول کا تھا مگر جھلک بےنظیر کی‘

 بلاول
بریفنگ کا مقصد میڈیا کو باور کروانا تھا کہ بلاول کے آکسفورڈ میں قیام کے دوران وہ ان سے دور ہی رہے
بارہ دن قبل بلاول زرداری وہ انیس سالہ نوجوان تھے جو آکسفورڈ یونیورسٹی میں دوسری ٹرم کے ایک طالبعلم کے طور پر تعلیمی اور معاشرتی بےیقینیوں سے نبرد آزما ہونے میں مصروف تھے۔

لیکن ان گولیوں اور بم نے جس کا شکار بلاول کی والدہ ہوئیں،ان کے لیے ایک نئی حقیقت کو بھی جنم دیا اور یہ حقیقت تھی بھٹو خاندان کے سیاسی وارث کا رتبہ جو انہیں اپنی والدہ کی وصیت کے تحت حاصل ہوا۔

بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد ان کی جماعت میں عہدوں کی تبدیلی کے عمل میں بلاول نہ صرف اپنے والد کے ہمراہ پاکستان پیپلز پارٹی کا شریک سربراہ بن گئے بلکہ انہوں نے بلاول زرداری سے بلاول بھٹو زرداری بننے کا سفر بھی طے کر لیا۔

بھٹو خاندان کا یہ وارث جب لندن کی بارش سے بچتا بچاتا کنزنگٹن گارڈنز کے قریب ایک ہوٹل کے تہہ خانے میں پہنچا تو یہ لاڑکانہ میں اپنے آبائی گھر سے آکسفورڈ کے کرائسٹ چرچ کالج تک کے سفر کے دوران کا ایک پڑاؤ تھا۔

بلاول کو جانا تو آکسفورڈ ہی تھا لیکن ذرائع ابلاغ میں انہیں جاننے کی بے چینی اور تڑپ کچھ ایسی تھی کہ لندن میں موجود ان کی مرحومہ والدہ کے سیاسی مشیروں نے ان پر زور دیا کہ وہ عوامی زندگی کا مزہ چکھ ہی لیں، چاہے یہ انہیں پسند آئے یا نہ۔

ہوٹل کے باہر ایک دربان ہاتھ میں چھتری پکڑے اور چہرے پر روایتی برطانوی مسکراہٹ سجائے اس امر کو یقینی بنانے میں مصروف تھا کہ بلاول ہوٹل کے ہنگامی راستے سے بنا پھسلے یا بھیگے گزر جائیں۔

’اچانک آپ ان کے چہرے میں بےنظیر بھٹو کو دیکھ سکتے تھے‘

ہوٹل کے تہہ خانے میں موجود کم گنجائش والے تقریباتی کمرے میں قریباً ڈیڑھ سو بین الاقوامی صحافی اور کیمرہ مین موجود تھے۔ لیکن بلاول کی والدہ کےقتل کے باوجود نہ تو وہاں پولیس تھی نہ محافظین۔

ممکن ہے کہ چند سادہ لباس والے پولیس اہلکار اس تقریب پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔ لیکن وہاں کوئی باوردی پولیس اہلکار موجود نہ تھا اور نہ ہی اس پریس کانفرنس میں آنے والوں کی تلاشی لی گئی۔

اگر اسے ایک پاکستانی سیاسی تقریب کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ پریس کانفرنس غیر معمولی طور پر نہ صرف منظم تھی بلکہ وقت پر شروع بھی ہوئی۔ بلاول بھٹو زرداری ایک سیاہ سوٹ میں ملبوس اپنے مشیروں اور خاندانی اقرباء کے جلو میں موجود تھے۔

اور پھر اچانک آپ ان کے چہرے میں بےنظیر بھٹو کو دیکھ سکتے تھے۔جہاں اس چہرے پر تھکاوٹ اور کچھ گھبراہٹ کے آثار دکھائی دیے تو وہیں وہ چہرہ پراعتماد بھی نظر آیا۔

اس بریفنگ کا مقصد میڈیا کو یہ باور کروانا تھا کہ بلاول کے آکسفورڈ میں قیام کے دوران ذرائع ابلاغ اس سے دور ہی رہے۔بلاول نے ایک بے تاثر چہرہ لیے دو صفحات پر مشتمل بیان پڑھا جس دوران ان کی نظریں متن پر ہی گڑی رہیں اور جب کبھی بھی انہوں نے اپنا چہرہ اٹھایا تو وہ کیمروں کی فلیش کی روشنیوں میں نہا گیا۔

’بلاول کی والدہ کےقتل کے باوجود نہ تو وہاں پولیس تھی نہ محافظین‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ عوامی زندگی کے عادی نہیں اور ان کی یہاں موجودگی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس زندگی کا فوری آغاز کر رہے ہیں یا پاکستان میں اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کی مہم چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’مجھے یقین ہے کہ آپ یہ بات سمجھیں گے کہ یہ ایک نیا تجربہ ہے اور میں کچھ گھبرایا ہوا ہوں‘۔ اگرچہ یہ الفاظ کسی اور کے تحریر کردہ تھے لیکن ان کی ادائیگی بہت فطری اور دوستانہ تھی۔

انہوں نے اپیل کی انہیں یونیورسٹی کی تعلیم تک محدود رہنے دیا جائے تاکہ وہ اس سے وہ ثمر پا سکیں جو ان کی والدہ نے آکسفورڈ اور ہارورڈ سے حاصل کردہ تعلیم سے پایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی تعلیم کی تکمیل اور پختگی کا حصول چاہتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو وہ کبھی بھی سیاسی اکھاڑے میں داخل ہونے کے لیے درکار سمجھ بوجھ حاصل نہیں کر پائیں گے۔

تاہم چاہے یہ طے شدہ تھا یا نہیں لیکن اس غیر سیاسی طالبعلم نے اس پریس کانفرنس میں سیاسی میدان میں قدم تو رکھا اور کہا کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے ان کی والدہ کے قتل کی تحقیقات میں’ضروری شفافیت‘ موجود نہیں۔

بلاول سوالات کا جواب’خوشدلی‘ سے دے رہے تھے لیکن یہ سب زیادہ دیر نہ چلا۔ ’واؤ‘ وہ لفظ تھا جو بی بی سی کے جیمز رابن کے سوال کے جواب میں بلاول کے منہ سے ادا ہوا اور پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ سوال ٹکڑوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔

امریکہ کے بارے میں آپ کے خیالات کیا ہیں؟ یہ سوال سنتے ہی یونیورسٹی کا یہ طالبعلم ایک نیا سیاستدان بن گیا۔ انہوں نےصدر مشرف کی ’آمریت‘ پر شدت پسندی پروان چڑھانے کا الزام عائد کیا لیکن یہ بھی کہا کہ’ اگر امریکہ آمروں کی حمایت ترک کر دے تو ہم شدت پسندی سے نمٹ سکتے ہیں‘۔

ان کی آواز کے زیرو بم میں تو فرق نہیں آیا لیکن سیاسی طور پر ناتجربہ کار بلاول کے ہاتھ سے تحمل کا دامن اس وقت چھوٹتا ہوا محسوس ہوا جب انہوں نے کہا کہ’ کتنے بھٹو مارے جا سکتے ہیں۔ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘۔

اور پھر جیریمی پیکسمین کا سہ شاخہ سوال جس کا مقصد شاید بلاول کو جانچنا ہی تھا۔ سوال یہ کہ جب نہ پاکستان میں کبھی رہے ہی نہیں تو انیس برس کی عمر میں وہ رہنمائی کا عزم کیسا؟۔

لیکن بلاول کا اطمینان برقرار رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کبھی بھی ان کا عزم نہیں تھا اور انہیں یہ کام بحران کی صورت میں کرنے کو کہا گیا ہے۔ ان کا اصرار تھا’میں خطرات سے واقف ہوں۔ لیکن مجھے اپنے ملک کی فکر ہے‘۔

اور اپنے لیے انہیں سب سے زیادہ فکر اپنی نجی زندگی کی ہے اور وہ چاہیں یا نہ چاہیں پرائیویسی اب اتنی آسان نہیں لیکن جیسا کہ انہوں نے اعتراف کیا کہ’سیاست میرے خون میں ہے‘۔

بھٹو کے جانشین
انکا بیٹا اور شوہر پارٹی کی قیادت کر سکیں گے؟
 بینظیر بھٹوقاتل کوکس نےبھیجا؟
اہم بات یہ ہےکہ قاتل کو کس نے اور کیوں بھیجا؟
اخبارات’بینظیر بھٹو شہید‘
بینظیر کو اخبارات کا بعد از موت خراج عقیدت
بے نظیر بھٹو’خوشیاں بھی دکھ بھی‘
پنڈی میں دونوں دیکھے: بینظیر کی آواز
بےنظیر بھٹو: ٹائم لائنبینظیر: ٹائم لائن
جلاوطنی، حکومت، جلاوطنی، قتل
بلاولبلاول دبئی واپسی پر
بلاول بینظیر کی تعزیت قبول کرتے ہوئے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد