بینظیر کی ای میل کوبنیاد بنایا جائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر بابر اعوان نے پارٹی سربراہ بینظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر کو اپنی جماعت کی جانب سے مسترد کیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقتولہ بینظیر بھٹو نے اپنے قتل سے پہلے میڈیا کے ارکان کو جو ای میل لکھی تھی اُسے بنیاد بنا کر ایف آئی آر درج کی جائے۔ بصورتِ دیگر ، اُن کے مطابق ، پی پی پی کو بے نظیر بھٹو کے قتل کی چھان بین کے سلسلے میں کی جانے والی تفتیش قبول نہ ہوگی ۔ سنیچر کے روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے اپنی ہلاکت سے پہلے میڈیا کو ایک ای میل لکھ کر اس خدشے سے آگاہ کیا تھا کہ اُنہیں قتل کردیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ ’ہمارے کہنے کے لیے محترمہ نے کچھ نہیں چھوڑا ۔ انہوں نے اپنے قاتلوں کے نام زندگی ہی میں بین الاقوامی دوستوں کو لکھ کر دے دیے تھے۔‘ بابر اعوان نے بینظیر بھٹو کے قتل کے سلسلے میں درج کی گئی ایف آئی آر کے بارے میں سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ ’ کیا ایف آئی آر مظلوم پارٹی کی جانب سے درج کی جاتی ہے یا پولیس خود ہی درج کرلیتی ہے؟‘ اُنہوں نے پی پی پی کی جانب سے مطالبہ کیا کہ میڈیا کو لکھی گئی بینظیر بھٹو کی ای میل کو بنیاد بنا کر ایف آئی آر درج کی جائے اور اُس میں جن لوگوں کے نام لیے گئے ہیں اُن کو شاملِ تفتیش کیا جائے ۔ ’بصورتِ دیگر پی پی پی کو تفتیش قابلِ قبول نہ ہوگی ، بھلے سکاٹ لینڈ یارڈ ہی کیوں نے کرے۔‘
بینظیر بھٹو کے قتل کی اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی تفتیش کی تجویز کے حوالے سے اپنی پارٹی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ ’ جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف صدر رہیں یا نہ رہیں، پی پی پی اقتدار میں آنے پر بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی ہی کرائے گی۔‘ اس حوالے سے اُنہوں نے مزید کہا کہ اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کی آمد کے موقع پر ہونے والی دہشت گردی کی واردات کے بعد بینظیر بھٹو نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس واقعہ کی تفتیش سکاٹ لینڈ یارڈ سے کرائی جائے ۔ لیکن اُس وقت صدر مشرف نے اس مطالبہ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ اس سے ملک کی خود مختاری پر حرف آئے گا اور پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ ’ تو اب ملک کی ساکھ اور خود مختاری کا کیا ہوا جب حکومت نے سکاٹ لینڈ یارڈ کی خدمات حاصل کی ہیں۔‘ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کے قائدین چودھری پرویز الٰہی اور چودھری شجاعت حُسین نے اخباری بیانات میں جو زبان اختیار کی ہے وہ صوبہ سندھ کے ساتھ بنگال (سابقہ مشرقی پاکستان) والا کھیل کھیلنےکے مترادف ہے۔’یہ سندھ میں خانہ جنگی چاہتے ہیں، قبر کشائی کی بات کرکے۔‘ وزارتِ داخلہ پر تنقید کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد تین دنوں میں وزارتِ داخلہ نے تین پینترے بدلے۔ ’ہم نہیں مانتے کہ ہماری لیڈر کے قتل میں قبائلیوں کا ہاتھ ہے ۔ وزارتِ داخلہ کو تو یہ تک معلوم نہیں کہ لینڈ کروزر گاڑی کی چھت (سن روف) لوہے کے کنڈے (لیور) سے نہیں بلکہ بٹن سے کھلتی ہے ، ایسے میں ہم وزارتِ داخلہ کی اس بات پر کیسے یقین کرلیں کہ خواتین کی عزت کرنے والے قبائلیوں نے بینظیر کو مروایا ہے۔‘ | اسی بارے میں بینظیرقتل، برطانوی تفتیش شروع05 January, 2008 | پاکستان بینظیرقتل: برطانوی ٹیم معاونت کریگی04 January, 2008 | پاکستان پولیس افسروں کے بیانات قلمبند03 January, 2008 | پاکستان بینظیر کی نشست پر انتخاب ملتوی04 January, 2008 | پاکستان برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف02 January, 2008 | پاکستان ’برطانوی مدد کیسے یاد آگئی‘02 January, 2008 | پاکستان بینظیر قتل، تحقیقات میں پیش رفت نہیں31 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||