BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 January, 2008, 01:48 GMT 06:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یہ قتل کا ایک سادہ معاملہ ہے‘

سکاٹ لینڈ یارڈ
برطانوی ٹیم صرف پاکستانی حکام کو اپنے نتائج سے آگاہ کرے گی
پاکستان کے صدر مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے کمیشن سے نہیں کروائی جا سکتیں۔

ایک فرانسیسی اخبار کو انٹرویو میں صدر مشرف نے کہا کہ ’ایسا ممکن نہیں ہے۔ کیا اس(بے نظیرکا قتل) میں کوئی دیگر ملک ملوث ہے؟ پاکستان لبنان نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ قتل کا ایک سادہ مقدمہ ہے اور ہمارے اپنے ادارے ہیں اور ہم سکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد پر بھروسہ کر سکتے ہیں‘۔ صدر مشرف نے امید ظاہر کی کہ اس کیس کی تفتیشی رپورٹ الیکشن سے قبل منظرِ عام پر آ جائے گی۔

ادھر اسلام آباد میں برطانوی سفارت خانے نے جمعہ کو حکومت پاکستان اور برطانیہ کے درمیان پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تفصیل جاری کر دی ہے۔

پاکستانی وزارت داخلہ اور برطانوی سفارت خانے کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق معاہدے کے تحت سکاٹ لینڈ یارڈ صرف بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی اصل وجہ کے تعین کے لیے مدد فراہم کرے گی۔

اس معاہدے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے تحت اس قتل کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی یا گرفتاری کا کام سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو نہیں دیا گیا ہے، جس سے بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق تحقیقات کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔

 معاہدے کے تحت برطانوی ماہرین کی ٹیم صرف پاکستانی حکام کو اپنے نتائج سے آگاہ کر سکے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم براہ راست میڈیا میں آ کر اپنے مشاہدات ظاہر نہیں کر سکے گی۔

معاہدے سے واضح ہوتا ہے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم صرف مقامی انتظامیہ کی مدد کرے گی اور تحقیقات کی قیادت نہیں کرے گی۔ برطانوی ٹیم تحقیقی اور فورنزک ماہرین پر مشتمل ہوگی۔

معاہدے کے تحت برطانوی ماہرین کی ٹیم صرف پاکستانی حکام کو اپنے نتائج سے آگاہ کر سکے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم براہ راست میڈیا میں آ کر اپنے مشاہدات ظاہر نہیں کر سکے گی۔ اس ٹیم کی قیادت سینئر تحقیقاتی افسر میک برائن کریں گے۔

ستائیس دسمبر کو بےنظیر بھٹو کی راولپنڈی میں ایک انتخابی ریلی کے اختتام پر خودکش حملے میں ہلاکت کے بعد چار جنوری کو صدر پرویز مشرف کی درخواست پر سکاٹ لینڈ یارڈ کی پانچ رکنی ٹیم پاکستان آئی تھی۔

برطانوی سفارت خانے کے بیان کے مطابق یہ معاہدہ ان کے وزیر خارجہ کی پارلیمنٹ میں سات جنوری کو وعدے کے بعد جاری کیا جا رہا ہے۔ ’اس پر اتفاق ٹیم کی آمد سے قبل تاہم دستخط پاکستان آمد کے فوراً بعد ہوئے تھے۔‘

معاہدے کے منظر عام پر آنے سے سکاٹ لینڈ یارڈ کے دائرہِ اختیار سے متعلق کئی شکوک و شبہات دور کرنے میں مدد ملی ہے۔ تاہم صرف ہلاکت کی وجہ کے تعین سے اس قتل میں ملوث افراد تک پہنچنے میں شاید مدد نہ ملے جو کہ کئی مبصرین کے مطابق زیادہ اہم بات ہے۔

تفتیشی ٹیم کے اراکینبینظیر بھٹوقتل
سکاٹ لینڈیارڈ تفتیشی ٹیم کا لیاقت باغ کامعائنہ
بینظیر بھٹو ’نیا انداز تفتیش‘
بینظیر قتل کیس مروجہ طریقے سے مختلف: ماہرین
راولپنڈی سانحہ
تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں
بینظیر آخری لمحات’آخری لمحات‘
محترمہ کو باہر نکلنے سے روکنا ناممکن تھا: مخدوم
برگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ ’قبرکشائی کیلیے تیار‘
بینظیر پوسٹمارٹم کیلیے حکومت کی پیشکش
جواب کےمنتظر
وہ سوال جن کا ابھی تک کوئی جواب نہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد