بینظیرقتل:’القاعدہ، بیت اللہ کا کام‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے کہنا ہے کہ بیت اللہ محسود اور القاعدہ ہی بینظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے بھی ستائیس دسمبر کو ہونے والے اس قتل کے بعد بیت اللہ محسود کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس حوالے سے بیت اللہ اور ان کے ساتھیوں کی ٹیلیفونک گفتگو بھی ٹیپ کی گئی ہے۔ بیت اللہ محسود نے اس قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے سابق پاکستانی وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل میں بیت اللہ محسود کے جنگجو ساتھی ملوث تھے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کن بنیادوں پر یہ دعوٰی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’یہ بیت اللہ محسود کے نیٹ ورک کا کام ہے اور ہمارے پاس اس پر سوال اٹھانے کی کوئی وجہ نہیں‘۔ مائیکل ہیڈن کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ قتل’اس منظم مہم کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستانی رہنماؤں پر خودکش اور دیگر حملے کیے جا رہے ہیں‘۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے مائیکل ہیڈن کا یہ بیان بینظیر کے قتل کے حوالے سے امریکی خفیہ اداروں کے تجزیے کا عکاس ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی خفیہ حکام پاکستانی حکومت کے خیال سے متفق ہیں۔ مائیکل ہیڈن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بینظیر کے قتل میں ملوث قوتیں ہی پاکستان میں بڑھتے ہوئے تشدد کی ذمہ دار ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں مشرف حکومت کا استحکام متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’القاعدہ اور دیگر شدت پسند اور علیحدگی پسند گروپوں کے درمیان رابطے پہلے ہی استوار تھے لیکن اب یہ مزید مستحکم ہو گئے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ ان کا مقصد موجودہ پاکستانی ریاست کو نقصان پہچانا ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’بیت اللہ محسود ذمہ دار ہیں‘28 December, 2007 | پاکستان طالبان کا بینظیر قتل کی تحقیق کا مطالبہ31 December, 2007 | پاکستان برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف02 January, 2008 | پاکستان ’قتل کی تحقیقات سے مطمئن نہیں‘03 January, 2008 | پاکستان تصاویر، وڈیوکلپس کا پھر سے جائزہ11 January, 2008 | پاکستان بینظیر پر پہلے حملے کے ذمہ دار’گرفتار‘15 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||