BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 January, 2008, 11:01 GMT 16:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر پر پہلے حملے کے ذمہ دار’گرفتار‘

بینظیر کے قافلے پر حملہ
کراچی میں بینظیر کے قافلے پر بم حملے میں 134 افراد مارے گئے تھے
پاکستان کے نگران وزیر داخلہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز خان نے دعوٰی کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں اٹھارہ اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے استقبالہ جلوس ہونے والے حملوں اور سرگودہا میں فضائیہ کی بس اور راولپنڈی میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

منگل کے روز اسلام آباد میں تھانہ ترنول کی نئی عمارت کا افتتاح کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ملزموں کا تعلق خودکش حملہ آوروں کے گروپ اور انتہا پسند تنظیموں اور ذیلی تنظیموں سے ہے جو جنوبی پنجاب میں سرگرم ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ان ملزمان کو سرگودہا اور میانوالی سے گرفتار کیا گیا ہے اور ان ملزمان سے ساٹھ کلو سے زائد دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے گرفتار ہونے والے افراد کے نام بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس گروہ کے دیگر ارکان کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارہے ہیں اور اگر ان کے نام بتا دیے تو اس گروہ کے ارکان روپوش بھی ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار سات کے آخری تین ماہ کے دوران خودکش حملہ آوروں نے راولپنڈی میں آرمی کی تنصیبات اور فوجی اہلکاروں کو چار مرتبہ نشانہ بنایا تھا اور مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان واقعات کے صرف مقدمات درج کیے ہیں جبکہ ان کی تحقیقات حساس اداروں کے اہلکار ہی کر رہے ہیں اور انہیں اس کی تفتیش سے دور ہی رکھا گیا ہے۔

فضائیہ کی بس پر حملے میں پاکستانی فضائیہ کے نو اہلکار ہلاک ہوئے تھے

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے قبائلی طالبان کے کمانڈر بیت اللہ محسود اور مولانا فضل اللہ کو بہت جلد گرفتار کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جونہی ان افراد کے ٹھکانوں کا پتہ چلا تو حکومت فوری طور پر کارروائی کرے گی اور اس ضمن میں مقامی افراد کی خدمات بھی لی جاسکتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں اور سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم پاکستانی تحقیقاتی اداروں کے ساتھ مل کر اس واقعہ کی چھان بین کر رہی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان غیرملکی ماہرین نے بےنظیر بھٹو کا پوسٹمارٹم کرنے کے بارے میں کہا ہے تو حامد نواز نے کہا کہ یہ بات ان کے علم میں نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعہ کے تحقیقات کے کسی مرحلے پر اس کا مطالبہ ضرور کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں حامد نواز نے کہا کہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے انتہا پسندی کو روکنے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے اس کی واضح مثال سوات میں جاری فوجی آپریشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُس وقت کی صوبائی حکومت اگر موثر اقدامات کرتی تو وہاں کے لوگوں کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر متحدہ مجلس عمل ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو پھر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر بھی عالمی برادری کی انگلیاں اٹھیں گی۔ ایک سوال پر کہ آپ لوگوں سے کہ رہے ہیں کہ عام انتحاب میں متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کو ووٹ نہ دیں اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ سارے سمجھدار لوگوں کو یہ اشارہ سمجھنا چاہیے۔

اسی بارے میں
کراچی: دھماکوں میں 134 ہلاک
19 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد