بینظیر پر پہلے حملے کے ذمہ دار’گرفتار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نگران وزیر داخلہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز خان نے دعوٰی کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں اٹھارہ اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے استقبالہ جلوس ہونے والے حملوں اور سرگودہا میں فضائیہ کی بس اور راولپنڈی میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ منگل کے روز اسلام آباد میں تھانہ ترنول کی نئی عمارت کا افتتاح کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ملزموں کا تعلق خودکش حملہ آوروں کے گروپ اور انتہا پسند تنظیموں اور ذیلی تنظیموں سے ہے جو جنوبی پنجاب میں سرگرم ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ان ملزمان کو سرگودہا اور میانوالی سے گرفتار کیا گیا ہے اور ان ملزمان سے ساٹھ کلو سے زائد دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے گرفتار ہونے والے افراد کے نام بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس گروہ کے دیگر ارکان کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارہے ہیں اور اگر ان کے نام بتا دیے تو اس گروہ کے ارکان روپوش بھی ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ سنہ دو ہزار سات کے آخری تین ماہ کے دوران خودکش حملہ آوروں نے راولپنڈی میں آرمی کی تنصیبات اور فوجی اہلکاروں کو چار مرتبہ نشانہ بنایا تھا اور مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان واقعات کے صرف مقدمات درج کیے ہیں جبکہ ان کی تحقیقات حساس اداروں کے اہلکار ہی کر رہے ہیں اور انہیں اس کی تفتیش سے دور ہی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے قبائلی طالبان کے کمانڈر بیت اللہ محسود اور مولانا فضل اللہ کو بہت جلد گرفتار کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جونہی ان افراد کے ٹھکانوں کا پتہ چلا تو حکومت فوری طور پر کارروائی کرے گی اور اس ضمن میں مقامی افراد کی خدمات بھی لی جاسکتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں اور سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم پاکستانی تحقیقاتی اداروں کے ساتھ مل کر اس واقعہ کی چھان بین کر رہی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان غیرملکی ماہرین نے بےنظیر بھٹو کا پوسٹمارٹم کرنے کے بارے میں کہا ہے تو حامد نواز نے کہا کہ یہ بات ان کے علم میں نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعہ کے تحقیقات کے کسی مرحلے پر اس کا مطالبہ ضرور کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں حامد نواز نے کہا کہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے انتہا پسندی کو روکنے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے اس کی واضح مثال سوات میں جاری فوجی آپریشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُس وقت کی صوبائی حکومت اگر موثر اقدامات کرتی تو وہاں کے لوگوں کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر متحدہ مجلس عمل ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو پھر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر بھی عالمی برادری کی انگلیاں اٹھیں گی۔ ایک سوال پر کہ آپ لوگوں سے کہ رہے ہیں کہ عام انتحاب میں متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کو ووٹ نہ دیں اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ سارے سمجھدار لوگوں کو یہ اشارہ سمجھنا چاہیے۔ | اسی بارے میں کراچی: چھ سال میں اٹھائیس دھماکے15 January, 2008 | پاکستان کراچی: ہلاکتوں کی تعداد گیارہ 14 January, 2008 | پاکستان سرگودھا: فضائیہ کی بس پر خود کش حملہ01 November, 2007 | پاکستان فضائیہ بس پر حملہ، تحقیقات شروع01 November, 2007 | پاکستان کراچی دھماکے، تفتیشی ٹریبیونل31 October, 2007 | پاکستان کراچی: دھماکوں کی تفتیش جاری20 October, 2007 | پاکستان کراچی: دھماکوں میں 134 ہلاک19 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||