صدر مشرف صحافی پر برس پڑے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے خود کو انسانی حقوق کا آزادی اظہار کا علمبردار قرار دینے کے بعد حاضرین کو اس وقت حیرت میں ڈال دیا جب ایک چبھتا ہوا سوال پوچھنے پر وہ ایک پاکستانی صحافی پر برس پڑے۔ صدر پرویز مشرف پہلے تو اس وقت چِڑ گئے جب سکائی ٹی وی کے نمائندے نے ان سے پوچھا کہ کہ کیا انتخابات واقعی منصفانہ ہوں گے؟ صدر مشرف کا جواب تھا: ’ آپ مجھے سرٹیفیکیٹ دیں تو میں اس پر دستخط کر دیتا ہوں۔‘ اس کے بعد جب پاکستان کے انگریزی روزنامے ڈان کے لندن میں نامہ نگار ایم ضیاء الدین نے ان سے پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے حوالے سے سوال کیا تو صدر مشرف شدید برہم ہوگئے۔ جب ضیاء الدین نے پوچھا کہ جب راشد رؤف جیسا ایک مشتبہ ہائی پروفائل شدت پسند جو کہ برطانوی شہری تھا اور برطانیہ مطالبہ کر رہا تھا کہ اسے اس کے حوالے کیا جائے وہ دن دہاڑے بھاگ جاتا ہے تو لوگ یہ شک کرتے ہیں کہ پاکستان میں یہ اہلیت نہیں ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو بچا لے گا تو صدر مشرف نے سینیئر صحافی کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا : یہ آپ جیسے لوگ ہی ہیں جو افواہیں پھیلاتے ہیں۔ اور پھر غیر ملکی ذرائع ابلاغ آپ کی افواہوں کو پکڑ لیتے ہیں۔ آپ خفیہ اداروں پر الزامات لگا کر افواہیں پھیلا رہے ہیں۔‘
ان کلمات کے بعد صدر نے پاکستانی صحافی کے سوال کا جواب دیے بغیر غیر ملکی صحافیوں سے سوال لینا شروع کر دیے۔ اس سے قبل لندن میں برطانیہ کے دفاعی امور کے مشہور تھنک ٹینک ’رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ‘ کے غیر پاکستانی سامعین سے بھرے ہال میں پاکستان کے صدر نے اپنی آدھے گھنٹے کی تقریر میں پاکستان کی حالیہ تاریخ، دہشتگردی کے خلاف اپنی جنگ اور قومی انتخابات پر گفتگو کی۔ تاہم صدر پرویز مشرف سب سے زیادہ پرجوش اس وقت ہوئے جب وہ انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے موضوعات پر بات کر رہے تھے۔ ’ میں انسانی حقوق، شخصی آزادی اور آزادی اظہار کا زبردست حامی ہوں۔ ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ آزادیاں حدود کے اندر ہونا چاہئیں اور ان سے تشدد اور تباہی نہیں ہونا چاہیے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ہمیں غیر مستحکم کرے اور انسانی حقوق کے نام پر مطلق العنانی پھیلائے۔‘ جب پاکستانی صدر نے تقریر ختم کی تو ملکۂ برطانیہ کے شوہر پرنس فلپ سمیت تمام سامعین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور انہیں داد دی۔ تاہم تقریر کے بعد سوال و جواب کے دوران صدر مشرف کے رویے سے صحافی ضرور ناخوش ہوئے۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں تین مواقع ایسے تھے کہ جب مغرب پاکستان کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق پہلا موقع وہ تھا جب ملک کے چیف جسٹس کو برطرف کیے جانے کو انسانی حقوق کی پامالی سمجھا گیا۔ ’یہ کوئی انسانی حقوق کا معاملہ نہیں تھا۔ یہ ایک قانونی معاملہ تھا جس کو پہلے سیاسی رنگ دیا گیا اور پھر بعد میں اسے قوم کے لیے ایک مسئلہ بنا دیا گیا۔‘
پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے محفوظ یا غیر محفوظ ہونے کے مسئلے پر پاکستانی صدر نے کہا کہ ان ہتھیاروں کے انتہا پسندوں کے ہاتھ لگنے کے کوئی امکان نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ القاعدہ پاکستانی فوج کو شکست دیدے یا انتخابات جیت کر حکومت میں آ جائے۔ ’ان میں سے کسی بات کا دور دور تک امکان نہیں۔‘ صدر مشرف نے کہا کہ ’یہ سمجھنے کی کوشش کیجۓ کہ ہم یہ جنگ اپنے لیے یعنی پاکستان کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے عوام دہشت گردی نہیں چاہتے، انتہا پسندی نہیں چاہتے، طالبان نے ہمارے مذہب کا جو پس ماندہ تصور قائم کر رکھا ہے وہ نہیں چاہتے تو آخر ہم کیوں سنجیدگی کے ساتھ اس کشمکش میں حصہ نہیں لیں گے۔ ہم کسی کو خوش کرنے کے لیے یہ لڑائی نہیں لڑ رہے ہیں۔‘ صدر مشرف نے اس خیال کو خارج از امکان قرار دیا کہ امریکی فوج کو پاکستان کے اندر دہشت گردوں سے لڑنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ صدر مشرف نے کہا کہ وسط فروری کے عام انتخابات پروگرام کے مطابق ہونگے ۔ انہوں نے بیرونی نکتہ چینوں کو چیلنج کیا کہ کھل کر بتائیں کہ صاف ستھرے انتخابات کے معاملے میں کیا کمی ہے جسے پورا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ انتخابات آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور پُر امن ہوں گے۔ نظام کے اندر کوئی بھی ایسے عناصر جو انتخابی عمل کو اپنے حق میں استعمال کر سکتے تھے انہیں میں نے اور الیکشن کمیشن نے نکال باہر کیا ہے۔‘ | اسی بارے میں ’انتخابات منصفانہ اور پُرامن ہونگے‘24 January, 2008 | پاکستان مغرب پر جمہوریت کا بھوت سوار ہے: مشرف21 January, 2008 | پاکستان مشرف کا دورۂ یورپ، احتجاج کا سامنا21 January, 2008 | پاکستان انتخابات منصفانہ ہوں: یورپی اتحاد21 January, 2008 | پاکستان مشرف کو تلاش عالمی ہمدردی کی22 January, 2008 | پاکستان پریشانی کی کوئی وجہ نہیں: مشرف18 January, 2008 | پاکستان پاکستان میں آٹا سستا ہے: مشرف14 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||