’عوامی رائے مجھے پتہ چل جائےگی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ صرف وہ خود ہی اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ عوام انہیں کرسی صدارت پر دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ دورۂ یورپ کے دوران سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں بی بی سی ورلڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں جس وقت بھی اس بات کا اندازہ ہوگا کہ پاکستان کے لوگ انہیں نہیں چاہتے تو وہ ایک دن بھی کرسی صدارت پر نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں جانتا ہوں میں کہاں کھڑا ہوں۔ جس دن مجھے اس بات کا اندازہ ہوگا کہ پاکستان کے لوگ مجھے اقتدار سے الگ دیکھنا چاہتے ہیں تو میں مزید ایک روز بھی انتظار نہیں کروں گا‘۔ جب صدر مشرف سے پوچھا گیا کہ آپ پہلے بھی یہ بات کہہ چکے ہیں مگر آخر وہ کونسا طریقہ ہے کہ پاکستانی عوام اپنی رائے آپ پر واضح کر سکیں تو انہوں نے ایسا کوئی طریقہ نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’ ایسا کوئی راستہ نہیں ہے سوائے میرے اپنے اندازے کے اور عوام کی رائے جاننے کے ان چھ ذرائع کے۔۔۔ جن سے مجھے لوگوں کی رائے کا پتہ چلتا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’ایسے میں مجھے خود سے دیانت داری کا ثبوت دینا ہوگا۔ میرا ایک عزم ہے جو میں آپ کے سامنے ثابت نہیں کرسکتا، میں سی این این یا بی بی سی کے سامنے ثابت نہیں کر سکتا‘۔ صدر مشرف سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان کے بعض سابق فوجیوں کے خیال میں اب جبکہ ان کے اقدامات کی وجہ سے فوج کی ساکھ خراب ہوئی ہے اور انہیں اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات ان فوجیوں کی طرف سے لگ رہے ہیں جو حقائق سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ان افراد کا پاکستانی فوج پر کوئی اثر نہیں ہے۔ یہ لوگ تو کاغذی شیر ہیں۔ نہ تو پاکستانی فوج میں ان کی کوئی بات سنتا ہے اور نہ سول سوسائٹی میں‘۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ’میں ان لوگوں کو دو درجوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ ایک وہ جنہیں میں نے نکال دیا دوسرے وہ جنہیں کوئی فائدہ نہیں ملا‘۔ اس سوال پر کہ جب پاکستان میں آٹے اور بجلی جیسی بنیادی اشیاء کی قلت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انتظامیہ بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے کی اہل نہیں تو ایسے میں سرمایہ کار کیسے پاکستان کی طرف راغب ہوسکتے ہیں صدر مشرف کا کہنا تھا کہ’ پاکستان میں آٹے کے بحران کا معاملہ یہ ہے کہ یہ ختم ہو چکا ہے اور آٹے کی اب کوئی قلت نہیں ہے‘۔ صدر مشرف نے آٹے کے بحران کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’ہوا یہ تھا کہ پاکستان میں آٹے اور گندم کی قیمت بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان اور ہر جگہ سے کم تھی اور گندم اسمگل کر دی جاتی تھی۔ جب ہم نے اس کو روکا تو اس کی ذخیرہ اندوزی کر لی گئی جس سے قلت ہوئی لیکن ہم نے گندم باہر سے منگوا کے اس قلت کو دور کر دیا ہے‘۔ | اسی بارے میں ’انتخابات منصفانہ اور پُرامن ہونگے‘24 January, 2008 | پاکستان مغرب پر جمہوریت کا بھوت سوار ہے: مشرف21 January, 2008 | پاکستان مشرف کا دورۂ یورپ، احتجاج کا سامنا21 January, 2008 | پاکستان انتخابات منصفانہ ہوں: یورپی اتحاد21 January, 2008 | پاکستان مشرف کو تلاش عالمی ہمدردی کی22 January, 2008 | پاکستان پریشانی کی کوئی وجہ نہیں: مشرف18 January, 2008 | پاکستان پاکستان میں آٹا سستا ہے: مشرف14 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||